میں اللہ کی رحمت کی امید کو کیسے تھامے رکھوں بغیر اس کے کہ یہ امید لاپرواہی سے گناہ کرتے رہنے کا بہانہ بن جائے؟
Rehmat ki umeed aur laparwahi
امید اور احتیاط ایک دوسرے کے مقابل نہیں ہیں۔ جو اندیشہ تمہارے سوال میں ہے، یعنی امید کہیں سستی کی سند نہ بن جائے، وہ اپنی جگہ درست ہے۔ مگر اس کا علاج امید کو کم کرنا نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ امید آخر کس کام کی چیز ہے۔
پہلی بات، اللہ کی رحمت کی وسعت کا کوئی کنارہ نہیں۔
”اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔“
قرآن، سورۃ الاعراف ۷:۱۵۶ · مفہوم
”ہر چیز“، یعنی تمہاری کمزوری، تمہاری لغزش، تمہاری بار بار کی چوک، سب اسی رحمت کے دامن میں آ جاتی ہے۔ یہی وہ زمین ہے جس پر تمہارے قدم ہیں، اور اس کا مقصد یہ ہے کہ لوٹنے کا راستہ کھلا اور آسان معلوم ہو، بند اور ناممکن نہ لگے۔
نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہی تعلیم دی کہ آخری سانس تک اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھو۔
”تم میں سے کوئی ہرگز اس حال میں نہ مرے مگر یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۸۷۷a) · مفہوم
مگر اچھے گمان کا مطلب بھی سمجھ لو۔ یہ اُس شخص کا اطمینان نہیں جس نے فکر ہی چھوڑ دی، بلکہ اُس بندے کا بھروسہ ہے جو اتنی بڑی سخاوت کے سامنے خالی ہاتھ جانے سے شرماتا ہے۔ اچھا گمان اور سچی کوشش ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جہاں یہ دونوں الگ ہو گئے، وہاں جو باقی رہ جاتا ہے وہ امید نہیں، محض ایک آرام دہ خیال ہے جو دل کو سلا دیتا ہے۔
اہلِ سلوک نے صحیح دل کو اُس پرندے سے تشبیہ دی ہے جو دو پروں سے اڑتا ہے، ایک پر امید کا، دوسرا اُس ادب کا جو بندے کو اللہ کے سامنے بیدار رکھتا ہے۔ امید ہر گرنے کے بعد اٹھا کر واپس اُسی کی طرف لے جاتی ہے، اور ادب اُس کے قرب کو ہلکا لینے سے روکتا ہے۔ ایک پر سے پرواز نہیں ہوتی، اس لیے یہ ادب تمہاری امید کو گھٹاتا نہیں، پورا کرتا ہے۔
سو امید کو اُتنا ہی وسیع رکھو جتنی وہ رحمت وسیع ہے، بس دیکھتے رہو کہ یہ امید تمہارے ساتھ کیا کر رہی ہے۔ اگر یہ تمہیں جلد لوٹنے والا، جلد توبہ کرنے والا، سامنے پڑی چھوٹی سی نیکی میں جلد بڑھنے والا بنا رہی ہے، تو یہی امید ہے۔ اور اگر اس سے قدم سست پڑنے لگیں تو سمجھ لو کہ یہ امید نہیں، امید کے بھیس میں کوئی اور چیز ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج جب بھی دل میں یہ خیال آئے کہ اللہ بہت رحیم ہے، اسے وہیں نہ چھوڑو، فوراً اُس کے ساتھ ایک ننھی سی نیکی جوڑ دو، ایک بار استغفار، یا کسی کے لیے دو لفظوں کی دعا، تاکہ تمہاری امید ہمیشہ عمل کا ہاتھ تھامے چلے۔
