میں نے محسوس کیا ہے کہ میں جس کے ساتھ وقت گزارتا ہوں، ویسا ہی بن جاتا ہوں۔ کیا میری صحبت واقعی میرے دل کو اتنا ڈھالتی ہے، اور کیا یہی وجہ ہے کہ صوفیاء نیک لوگوں کے پاس بیٹھنے پر زور دیتے ہیں؟
Nek sohbat ka dil par asar
آپ نے جو محسوس کیا ہے، بات واقعی ایسی ہی ہے۔ انسان کا دل نرم چیز ہے، کورے کپڑے جیسا، جس رنگ میں ڈوبے اُسی کا ہو رہتا ہے۔ ہم جن کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، اُن کی باتیں، اُن کے انداز، اُن کی سوچ، سب آہستہ آہستہ دل میں رَس بس جاتی ہے، اور خبر بھی نہیں ہوتی کہ کب اُتری۔ یہ کوئی کمزوری نہیں، دل کی بناوٹ ہی ایسی ہے۔ اِسی ایک بات پر بزرگوں نے ”صحبت“ کو، یعنی نیک لوگوں کی سنگت کو، اِس راہ کی سب سے بڑی کنجی قرار دیا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے یہ حقیقت ایسی مثال سے سمجھائی جسے ہر آدمی اپنی زندگی میں پرکھ سکتا ہے۔
”اچھے اور برے ہم نشیں کی مثال عطر بیچنے والے اور لوہار کی سی ہے۔ عطر والے کے پاس بیٹھو گے تو یا وہ تمہیں کچھ عطر دے دے گا، یا تم اُس سے خرید لو گے، یا اُس کی خوشبو تمہیں پہنچے گی۔ اور لوہار کی بھٹی کے پاس بیٹھو گے تو یا تمہارے کپڑے جل جائیں گے، یا تمہیں اُس سے ناگوار بو پہنچے گی۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم، بروایت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ (۵۵۳۴) · مفہوم
دیکھیے، عطر والے کے پاس بیٹھنے والا کچھ خریدے نہ بیچے، خوشبو تو پھر بھی ساتھ لے کر اٹھتا ہے۔ صحبت کا سارا بھید یہی ہے۔ اُن جیسا بننے کی محنت شاید ابھی نہ ہو سکے، مگر اُن کے پاس بیٹھنا بھی خالی نہیں جاتا۔ اُن کا سکون، اُن کی لگن، اُن کا اللہ سے تعلق، کچھ نہ کچھ اثر دل پر چھوڑ جاتا ہے۔ جس نے کبھی کسی مخلص مجلس سے اٹھ کر دل ہلکا پایا ہو، یا کسی جھگڑالو محفل سے نکل کر بوجھ محسوس کیا ہو، وہ اِس بات کو بتائے بغیر جانتا ہے۔ تصوف نے یہ اصول گھڑا نہیں، صرف اِسے سنجیدگی سے لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی ﷺ کو یہی حکم دیا کہ صحبت کے لیے ایسے ہی لوگ چُنیں۔
”اور اپنے آپ کو اُن لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھیے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اُسی کی رضا کے طلبگار۔“
قرآن، سورۃ الکہف ۱۸:۲۸ · مفہوم
لفظوں پر غور کیجیے، ”اپنے آپ کو جمائے رکھیے“۔ یہ نہیں فرمایا کہ تنہا بیٹھ کر اپنے زور سے اپنے آپ کو سنوار لو۔ فرمایا کہ جو اُس کی طرف رخ کیے ہوئے ہیں، اُن کے پاس ٹھہرے رہو۔ ٹھہرنا ہی اصل کام ہے، اور اِس میں تھوڑی ہمت لگتی ہے، کیونکہ اچھی سنگت خود چل کر کسی کے گھر نہیں آتی، اُسے ڈھونڈنا پڑتا ہے اور پھر سنبھالنا پڑتا ہے۔
سو جو حساس طبیعت آپ نے اپنے اندر دیکھی ہے، اُسے خرابی سمجھ کر مٹانے کی ضرورت نہیں۔ یہ کھلا دل ہے، جس کے قریب رکھیں گے اُسی کا رنگ پکڑ لے گا۔ اِس کا رخ اچھی طرف کر دیں، پھر یہی نرمی جو سختی کو جذب کر سکتی تھی، صبر، حلم اور اللہ کی یاد کو اپنے اندر اتارے گی، اور ایک دن وہی خوشبو جو آپ کسی سے لے کر آئے تھے، لوگ آپ سے پائیں گے۔
ایک چھوٹا قدم: اپنے جاننے والوں میں سے کسی ایک ایسے شخص کے بارے میں سوچیے جس کے پاس بیٹھ کر آپ کا دل اللہ کی طرف مائل ہوتا ہو، اور اِسی ہفتے وقت نکال کر کچھ دیر اُس کے پاس جا بیٹھیے، چاہے صرف پندرہ منٹ کے لیے۔
