اگر دل کی صفائی اتنی ہی اہم ہے، تو ابتدائی مسلمانوں کے ہاں تصوف کا یہ پورا نظام کیوں نہ تھا؟ مجھے لگتا ہے یہ بعد میں شامل کی گئی چیز ہے، اور یہ بات مجھے ایک ممکنہ بدعت کے خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔
Tasawwuf baad ki bidat ya nahi
بات سیدھی ہے۔ جس چیز کو بعد کی گھڑی ہوئی سمجھ کر آپ ڈر رہے ہیں، وہ دراصل سب سے پہلے دن کی چیز ہے۔ دل کی صفائی، یعنی تزکیہ، بعد میں شامل کی گئی کوئی بات نہیں، بلکہ خود نبوت کے مقاصد میں سے ہے۔ ہاں، بعد میں جو نام رکھا گیا اور جو ترتیب بنی، وہ اِسی پرانے خزانے تک پہنچنے کا راستہ ہے، جیسے علمِ نحو اور اصولِ فقہ بعد میں مرتب ہوئے، مگر اُن کی حقیقت شروع ہی سے قرآن و سنت میں موجود تھی۔
ذرا غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمانے کا مقصد بیان کیا تو دل کی صفائی کو الگ سے، ایک مستقل کام کے طور پر ذکر فرمایا:
”وہی ہے جس نے اُمّیوں میں اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو اُن پر اُس کی آیتیں پڑھتا ہے، اور اُنہیں پاک کرتا ہے (یُزَکِّیْہِمْ)، اور اُنہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔“
قرآن، سورۃ الجمعہ ۶۲:۲ · مفہوم
یہاں تلاوت الگ ہے، تعلیمِ کتاب الگ ہے، اور ”یُزَکِّیْہِم” یعنی باطن کو پاک کرنا الگ بیان ہوا۔ یہی تزکیہ، یہی دلوں کی صفائی، تصوف کی اصل جڑ ہے، اور یہ خود نبی کریم ﷺ کی مبارک ذمہ داری تھی۔ یہی مضمون ایک اور جگہ اُس دعا کے ثمر کے طور پر آیا ہے جو ابراہیم علیہ السلام نے مانگی تھی:
”جیسا کہ ہم نے تم میں تمہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے، اور تمہیں پاک کرتا ہے، اور تمہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔“
قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۱۵۱ · مفہوم
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ہاں یہ تزکیہ کسی کتابی نظام کی شکل میں نہیں تھا، زندہ صورت میں تھا۔ وہ خود حضور ﷺ کی صحبت میں بیٹھتے، اور آپ کی نگاہ اور تربیت سے اُن کے دل صاف ہوتے چلے جاتے۔ پھر جب یہ صحبت دور ہوتی گئی، تو اہلِ اللہ نے اِسی نبوی تزکیے کو محفوظ رکھنے اور دلوں تک پہنچانے کے لیے ایک ترتیب، ایک راستہ مرتب کیا، جسے تصوف کہا گیا۔ نام نیا ہے، چیز وہی پرانی ہے، وہی نبوی میراث۔ نقشبندی مجدّدی راہ بھی اُسی صحبت اور تزکیے کی زنجیر ہے، جو دل سے دل تک چلتی ہوئی ہم تک پہنچی ہے۔ سو یہ بدعت نہیں، یہ سنت کا وہی باطنی حصہ ہے جس کی حفاظت کی گئی۔
ایک چھوٹا قدم: آج کسی ایک وقت، چند لمحوں کے لیے کسی نیک، صاحبِ دل بزرگ کی صحبت میں بیٹھنے کا ارادہ کر لیجیے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو دل ہی دل میں اللہ سے یہ دعا مانگیے، ”اے اللہ، میرے دل کو اپنی محبت سے پاک فرما دے”۔ تزکیے کی راہ اِسی ایک سچی دعا سے کھلتی ہے۔
