دل کے سوال

میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے دین پر پکے ہوں، اس لیے میں سختی کرتا ہوں اور آواز اونچی کر لیتا ہوں۔ کیا انہیں سیدھے راستے پر رکھنے کے لیے کبھی کبھی سختی ضروری نہیں؟

Bachon ki tarbiyat mein sakhti

آپ کی بات سے صاف ظاہر ہے کہ اولاد کے دین کی فکر آپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ سختی آپ ظلم کے شوق میں نہیں کرتے، اِس ڈر سے کرتے ہیں کہ کہیں بچہ بہک نہ جائے۔ سوال صرف اِتنا ہے کہ بچے کو راہ پر ٹھہرانے والی چیز اونچی آواز ہے، یا کوئی اور۔

اللہ تعالیٰ نے جب یہ بتایا کہ اپنے نبی ﷺ کے گرد لوگ کس بنیاد پر جمع ہوئے اور جمے رہے، تو سختی کا نام نہیں لیا، نرمی کا نام لیا، اور ساتھ ہی اُس کے اُلٹ سے خبردار بھی کر دیا۔

”پس اللہ کی رحمت ہی کے سبب آپ اُن کے لیے نرم ہو گئے، اور اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد سے بکھر جاتے۔“

قرآن، سورۃ آل عمران ۳:۱۵۹ · مفہوم

ذرا اِس بات کو سامنے رکھیے۔ پیغام سب سے سچا، پہنچانے والے سب سے کامل، پھر بھی فرمایا گیا کہ تندی ہوتی تو لوگ پاس سے چھٹ جاتے۔ جب بڑے مرد یہ بوجھ نہ اٹھا سکتے تھے تو بچے کا نازک دل کیا اٹھائے گا۔ دین بچے کے اندر ٹھونسا نہیں جاتا، پیارا کیا جاتا ہے۔ اونچی آواز سامنے کھڑے جسم کو جھکا لیتی ہے، مگر دل کو یہ سکھا دیتی ہے کہ باپ قریب آئے تو دروازہ بند کر لو، اور بند دل دین کو جوانی تک ساتھ نہیں لے جاتا۔

پھر گھر میں رحم کوئی زائد چیز نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ہمارے رحم کو اللہ کے رحم سے جوڑ دیا۔

”جو رحم نہیں کرتا، اُس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۵۹۹۷) · مفہوم

نرمی کمزوری نہیں، اور نہ اصول ڈھیلے کرنے کا نام ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جو اللہ کو خود پسند ہے، اِسی لیے مضبوطی اور نرمی ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ بات پر پکے رہیے، لہجہ نرم رکھیے۔

”بے شک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۶۹۲۷) · مفہوم

گھروں کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے۔ جہاں ماں باپ کا، اور خاص طور پر باپ کا رویہ نرم ہوتا ہے، وہاں دین اولاد تک آسانی سے منتقل ہو جاتا ہے۔ اور جو کام صرف دباؤ سے کرایا جاتا ہے، بچہ بڑا ہو کر آزاد ہوتے ہی اُسے رکھ دیتا ہے۔ باغبان بھی پودے کو جھٹکوں سے نہیں، پانی اور نرم ہاتھوں سے بڑا کرتا ہے۔ سو سختی کو ثابت قدمی میں بدل دیجیے۔ توقع اونچی رکھیے، آواز اونچی نہ کیجیے۔ یہ اولاد کے دین میں کمی نہیں، یہی سب سے بڑی کوشش ہے۔

ایک چھوٹا قدم: آج جب آواز اونچی ہونے کو ہو، ایک لمحہ رُک جائیے، بچے کو اُس کے نام سے نرمی سے پکاریے، اور وہی بات آدھی آواز میں کہیے، ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھ کر۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔