اصل کامیابی (فلاح) کا مطلب دراصل کیا ہے؟ کیونکہ دنیا کے ہر پیمانے سے تو میں کامیاب ہوں، پھر بھی یہ کافی محسوس نہیں ہوتا۔
Asli kamyabi yani falah kya hai
دنیا کے جتنے پیمانے تھے، آپ اُن سب پر پورے اترے، اور اب سینے میں ایک خلا ہے۔ یہ خلا ناشکری نہیں، بات صرف اِتنی ہے کہ روح کی بھوک دنیا کی روٹی سے نہیں مٹتی۔ عربی میں کامیابی کو “فلاح” کہا جاتا ہے، اور یہ لفظ کسان کے اُس کام سے نکلا ہے جو زمین کو چیر کر اُس میں چھپا ہوا خزانہ، یعنی فصل، باہر لے آتا ہے۔ اصل کامیابی بھی یہی ہے کہ آدمی اپنے باطن کی زمین نرم کرے اور اُس میں چھپے نور کو کھلنے دے۔ اللہ تعالیٰ نے کامیاب لوگوں کی پہلی نشانی دولت یا رتبہ نہیں، جھکا ہوا دل بتائی ہے:
”بےشک ایمان والے کامیاب ہو گئے، وہ لوگ جو اپنی نماز میں دل کی گہرائی سے جھکنے والے ہیں۔“
قرآن، سورۃ المؤمنون ۲۳:۱-۲ · مفہوم
دیکھیے، کسوٹی یہاں بینک کا کھاتہ نہیں، دل کا خشوع ہے، یعنی وہ کیفیت جس میں بندہ اپنے رب کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور ایک عجیب سکون سے بھر جاتا ہے۔ سکون کا یہ رنگ دنیا کی کسی ترقی میں ہاتھ نہیں آتا۔ اور بات کی جڑ تک پہنچانے کے لیے اللہ ہمیں ایک لمحے کو اُس دن کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے، جہاں دنیا کے سارے پیمانے پیچھے رہ جاتے ہیں:
”ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تمہیں تمہارے پورے بدلے قیامت کے دن ہی دیے جائیں گے، پھر جو آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، سو وہی کامیاب ہوا، اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سامان ہے۔“
قرآن، سورۃ آلِ عمران ۳:۱۸۵ · مفہوم
“سو وہی کامیاب ہوا”۔ اِس سے زیادہ دو ٹوک تعریف ممکن نہیں۔ دنیا کی چمک ایک مسافر خانہ ہے، جہاں کچھ دیر ٹھہرنا تو ہے، بسنا نہیں۔ اِسی لیے دل، جو ہمیشہ رہنے والی چیز کے لیے بنایا گیا ہے، مٹنے والی چیزوں سے سیر نہیں ہوتا۔ اِس سارے سفر کا خلاصہ رب نے ایک چھوٹے سے جملے میں رکھ دیا، کہ اصل کامیابی باہر کی کمائی نہیں، اندر کی صفائی ہے:
”بےشک وہ کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔“
قرآن، سورۃ الشمس ۹۱:۹ · مفہوم
سو آپ ناکام نہیں ہیں۔ قرآن آپ کی محنت پر ملامت نہیں کرتا، صرف نظر اُٹھا کر اُس سے اوپر کی کامیابی دکھاتا ہے، کہ حقیقی فلاح دل کی پاکیزگی، رب کے سامنے عاجزی اور آخری گھر کی تیاری میں ہے۔ جو خلا آپ کو محسوس ہوتا ہے، وہ کمی نہیں، وہ آپ کے اندر رکھا ہوا ایک پیمانہ ہے جو صرف اپنے رب کی قربت سے بھرتا ہے۔ اب کامیابی کا رخ باہر سے موڑ کر اندر کی طرف کر لیجیے، اور جو سکون آپ برسوں سے ڈھونڈ رہے ہیں، وہ آپ ہی کے سینے میں مل جائے گا۔
ایک چھوٹا قدم: آج رات سونے سے پہلے، تنہائی میں صرف دو منٹ کے لیے آنکھیں بند کر کے سچے دل سے کہیے، “یا اللہ، مجھے وہ کامیابی عطا فرما جو تیرے ہاں کامیابی ہے”، اور اپنے دن کی ایک بھلائی پر اُس کا شکر ادا کر لیجیے۔
