دل کے سوال

میں بار بار سنتا ہوں کہ تصوف شریعت کے خلاف ہے، کہ یہ لوگ فقہ کو چھوڑ کر اپنی من مانی کرتے ہیں۔ کیا واقعی تصوف اسلام کے احکام پر عمل کرنے سے الگ یا اُس کے خلاف ہے؟

Kya tasawwuf shariat ke khilaf hai

یہ بات آج کل کثرت سے کہی جاتی ہے، اِس لیے اِس کا صاف صاف جواب سن لیجیے۔ حقیقی تصوف شریعت کے مقابل کوئی الگ چیز نہیں، نہ فقہ سے بچ نکلنے کا کوئی خفیہ راستہ ہے۔ شریعت ہی اُس کی جڑ ہے، اُس کی بنیاد ہے، اور اُس کا راستہ بھی وہی ہے۔ جو راہ شریعت کے احکام سے ہٹ جائے، اُسے تصوف کہنا ہی غلط ہے۔

دین میں شروع دن سے دو چیزوں کا ساتھ ساتھ لحاظ رکھا گیا ہے، ایک اعضا اور دوسرا دل۔ ہاتھ حرام سے رُکا رہے، زبان سچ پر قائم رہے، بدن مصلّے تک پہنچے، یہ سب اپنی جگہ، مگر اِن سب کے پیچھے ایک کام اِن سے بھی گہرا ہے، یعنی نفس کی صفائی۔ اور اصل مدار اُسی پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قسم پر قسم کھا کر جس کامیابی کا اعلان فرمایا، وہ بھی اِسی سے جڑی ہے:

”یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا، اور نامراد ہوا جس نے اُسے آلودہ کر دیا۔“

قرآن، سورۃ الشمس ۹۱:۹-۱۰ · مفہوم

بات یہیں پوری ہو جاتی ہے۔ کامیابی نفس کے پاک ہونے سے بندھی ہے، اور یہی تزکیہ تصوف کا سارا کام ہے۔ تو جو چیز خود شریعت مانگ رہی ہو، وہ شریعت کے خلاف کیسے ہو گی۔ فقہ ظاہر کو سیدھا کرتی ہے، اور تصوف اُسی فقہ پر چلتے ہوئے باطن کو سیدھا کرتا ہے۔ دونوں ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں، ایک نکل جائے تو سفر وہیں رک جاتا ہے۔

آقا ﷺ نے تو ساری بات کا مرکز ہی بتا دیا، اور نگاہ ظاہری اعضا سے ہٹا کر اُس ایک چھوٹے سے حاکم پر جما دی جس کے تابع یہ سب ہیں:

”سن لو! جسم میں ایک لوتھڑا ہے، جب وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (۵۲) · مفہوم

یعنی شریعت اعضا کو سنبھالتی ہے اور تصوف اُس دل کو جس کے تابع یہ اعضا ہیں۔ دونوں ایک ہی کھیت پر دو طرف سے کام کر رہے ہیں، ایک شاخیں سیدھی رکھتا ہے، دوسرا جڑ کو پانی دیتا ہے۔ دل درست ہو جائے تو نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، سب میں نکھار آ جاتا ہے۔ نقشبندی مجدّدی راہ اِسی لیے سب سے پہلے شریعت کی پابندی کا حکم دیتی ہے، اور پھر اُسی کے دامن میں دل کی صفائی سکھاتی ہے۔

پھر غلط فہمی کہاں سے آتی ہے؟ عام طور پر چند نمایاں زیادتیوں سے۔ کہیں کوئی بےسند عمل، کہیں کوئی بڑا دعویٰ، اور لوگ ذرا سے جھاگ کو دیکھ کر پورے سمندر پر حکم لگا دیتے ہیں۔ نیچے کا پانی صاف ہے۔ سچا تصوف اُسی باطنی فرمانبرداری کا نام ہے جسے پیدا کرنے کے لیے ظاہری احکام آئے۔ یہ بات سمجھ میں آ جائے تو جھگڑا خود ہی ختم ہو جاتا ہے، اور جو دل تزکیے میں لگتا ہے وہ سنت کو ڈھیلا نہیں چھوڑتا، بلکہ اور مضبوطی سے تھامتا ہے۔

اور اگر ایسی کسوٹی چاہیے جو ہر وقت پاس رہے تو وہ بہت سادہ ہے۔ جو بات، جو حال، جو کرامت بھی کسی کے بارے میں سنیں، اُسے سیدھا شریعت کے ترازو میں رکھ دیں۔ شریعت اور حقیقت کی منزل کبھی الگ نہیں رہی، اِس لیے اگر کوئی دعویٰ بال برابر بھی شریعت سے ہٹتا ہو تو وہی بال آپ کا جواب ہے، اور آپ نرمی سے اُس دعوے کو ایک طرف رکھ سکتے ہیں۔ کسی سچے آدمی کے منہ سے بےخودی کے کسی لمحے میں کوئی بات نکل جائے تو وہ راستے کے بیچ کا حال ہے، انتہا کا نہیں۔ جو واقعی منزل تک پہنچتے ہیں وہ ہوش اور احتیاط کے ساتھ لوٹتے ہیں، ہر قدم شریعت پر تولتے ہوئے، اور یہی خاموش احتیاط اُن کے پہنچنے کی سب سے بڑی گواہی ہے۔

ایک چھوٹا قدم: آج سونے سے پہلے دو منٹ آنکھیں بند کر کے اپنے دل سے کہیے، ”اے دل، اپنے مالک کی طرف لوٹ آ”، اور دن بھر میں جو کھٹک محسوس ہوئی ہو، اُس پر نرمی سے استغفار کر لیجیے۔ دل کی صفائی کی پہلی سیڑھی یہی ہے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔