اچھا، فرض کریں میں نرمی سے آغاز کرنا چاہتا ہوں۔ اس راستے پر پہلا، سب سے چھوٹا قدم کیا ہے، اور روزانہ کا وِرد، یعنی ذکر کا ایک مقررہ حصہ، رکھنا بدعت ہے یا کوئی ایسی چیز جس کی نبی کریم نے واقعی ترغیب دی؟
Pehla qadam aur rozana ka wird
آغاز نرمی ہی سے کیجیے، یہی طریقہ ٹھیک ہے۔ اس راہ میں جلد بازی کا کوئی کام نہیں، اور پہلے ہی دن پہاڑ سر کرنا مقصود نہیں۔ ابتدا ایک چھوٹے سے دروازے سے ہوتی ہے، اور وہ دروازہ روزانہ کا وِرد ہے، یعنی ذکر کا ایک مقرر اور مختصر حصہ جو ناغہ کے بغیر ادا ہوتا رہے۔
ذکر میں یہ پابندی کوئی نئی بات نہیں، قرآن خود اسی کی دعوت دیتا ہے
”اے ایمان والو، اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو۔“
قرآنِ کریم، سورۃ الاحزاب ۳۳:۴۱ · مفہوم
غور کیجیے، جب حکم ہی کثرتِ ذکر کا ہے تو دن میں ذکر کا ایک حصہ مقرر کر لینا بدعت کیونکر ہو گا۔ یہ تو اسی حکم کو نباہنے کا سلیقہ ہے۔ جیسے طالبِ علم اپنے سبق کے لیے ایک وقت باندھ لیتا ہے، اسی طرح سالک اپنے دل کی آبیاری کے لیے وقت مقرر کرتا ہے، تاکہ یاد کا سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے۔
اور رہا یہ سوال کہ روز کا تھوڑا سا ذکر کافی ہے یا بڑے بڑے اور کبھی کبھار کے اعمال مطلوب ہیں، اس کا جواب نبی کریم ﷺ کے اس فرمان میں ہے
”اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشگی کے ساتھ کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۴۶۴ / مسلم ۷۸۳b) · مفہوم
روزانہ کا مقرر وِرد اسی تھوڑے اور ہمیشگی والے عمل کا نام ہے۔ اصل قدر مقدار میں نہیں، دوام میں ہے۔ نقشبندی راہ کا، اور حضرت شیخ شہزاد عارف صاحب کی تربیت کا مزاج بھی یہی ہے کہ تھوڑا کرو، مگر روز کرو، اور دل کی حاضری کے ساتھ کرو۔ ایک قطرہ روز گرتا رہے تو پتھر میں اپنا راستہ بنا لیتا ہے، اور سیلاب گزر جائے تو نشان بھی نہیں چھوڑتا۔
وِرد کا لفظ سن کر بوجھ محسوس نہ کیجیے۔ ایک نماز کے بعد چند بار کے کلمات بھی وِرد ہیں، بس وہی الفاظ، وہی وقت، اور ہر روز، جیسے ایک چھوٹا چراغ جو بجھنے نہ پائے۔ تھوڑا مگر مستقل عمل آپ کو وہاں تک لے جائے گا جہاں تک بڑی مگر عارضی محنت نہیں پہنچاتی، کہ اللہ اُس دل کو دیکھتا ہے جو لوٹ لوٹ کر اُس کی طرف آتا رہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج سے ایک وقت مقرر کر لیجیے، شاید سونے سے پہلے، اور صرف ایک منٹ کے لیے آنکھیں بند کر کے دل کی گہرائی سے گیارہ بار “اللہ” کہیے، اور اسے روز، بلا ناغہ، اپنا چھوٹا سا وِرد بنا لیجیے۔
