دل کے سوال

میں ایک طویل رنجش کے بعد ایک عزیز سے صلح کرنا چاہتا ہوں، مگر میری انا مجھے پہل کرنے سے روک دیتی ہے۔ میں وہ پہلا قدم کیسے اٹھاؤں؟

Anaa chhor kar pehle sulah karna

صلح کی خواہش دل میں آ گئی ہے تو آدھا راستہ طے ہو چکا ہے۔ اب رہ گئی وہ انا جو پہل کرنے سے روکتی ہے، اسے کوئی بڑا عیب نہ سمجھیے۔ یہ دل کی ایک پرانی عادت ہے، ننھا سا خوف جو خودداری کا لباس پہن کر بیٹھ گیا ہے اور کان میں کہتا رہتا ہے کہ جو پہلے بڑھا، وہ ہار گیا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

سنیے، نبی کریم ﷺ نے ان دو بچھڑنے والوں کو کس ترازو میں تولا ہے۔

”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین رات سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔ اور دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۰۷۷ / مسلم ۲۵۶۰a) · مفہوم

ذرا لفظ ”بہتر“ پر ٹھہریے۔ آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ بہتر وہ ہے جو حق پر تھا، یا وہ جس نے زیادہ انتظار کیا، بلکہ وہ جس کا سلام پہلے پہنچے۔ یعنی جس قدم کو انا ہار سمجھ رہی ہے، وہی قدم درجہ بلند کرتا ہے۔ یہ ہتھیار ڈالنا نہیں، یہ اونچی جگہ پر بٹھایا جانا ہے۔

اور یہ کوئی چھوٹا کام بھی نہیں۔ ایک روز آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا۔

”کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو روزے، نماز اور صدقے کے درجے سے بھی بڑھ کر ہے؟ وہ ہے آپس کے تعلقات کو سنوارنا۔“

نبی کریم ﷺ، سنن ابو داؤد و ترمذی (ابی داؤد ۴۹۱۹ / ترمذی ۲۵۰۹) · مفہوم

رشتوں کی ٹوٹی ہوئی ڈور جوڑ دینا، نفلی روزوں اور نفلی نمازوں سے بھی وزنی ٹھہرا۔ تو آپ کا سلام محض ایک پیغام یا دروازے پر دی گئی دستک نہیں، یہ سادہ لباس میں چھپی ہوئی عبادت ہے، اُس چیز کی خاموش مرمت جو خود اللہ کو عزیز ہے۔

اور اصل بات تو اللہ نے پہلے ہی کھول دی ہے کہ آپ دونوں ایک دوسرے کے کیا ہیں۔

”بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو۔“

قرآن، سورۃ الحجرات ۴۹:۱۰ · مفہوم

بھائیوں میں ناراضی ہو جاتی ہے، مگر رشتہ ختم نہیں ہوتا، دیر سویر جڑ ہی جاتا ہے۔ شروع کرنے کے لیے نہ کوئی لمبی تمہید چاہیے، نہ بالکل ٹھیک الفاظ۔ جو لوگ اس بات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ برسوں کی خاموشی کے بعد جب کوئی پہل کرتا ہے تو کیا ہوتا ہے، وہ ہر بار ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ پہلا چھوٹا سا قدم، ایک سلام، دو سطر کا پیغام، بھیجنے والے کو بھاری لگتا ہے، وصول کرنے والے کو نہیں، اور اس کا خیر مقدم ہمارے اندازے سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ دوسری طرف بیٹھا دل بھی غالباً اس دوری سے اتنا ہی تھک چکا ہے جتنا آپ کا۔

ایک چھوٹا قدم: آج ہی اپنے اُس عزیز کو صرف اتنا پیغام بھیج دیجیے، ”السلام علیکم، آپ بہت یاد آئے، خیریت تو ہے؟“ اور بھیجنے سے پہلے دل میں یہ طے کر لیجیے کہ آج دونوں میں سے ”بہتر“ بننا ہے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔