میں ترقیوں اور مرتبے کے پیچھے بھاگتا ہوں کیونکہ مجھے عزت چاہیے، لیکن کیا مقام و مرتبہ کی طلب گناہ ہے؟
Izzat aur maqam ki talab
پہلی بات یہ کہ اس معاملے میں گناہ کا لفظ ہی بے محل ہے۔ عزت کی چاہت دل کا کوئی داغ نہیں، یہ انسانی فطرت میں رکھی گئی ایک شریف خواہش ہے۔ آدمی چاہتا ہی یہ ہے کہ اُس کی قدر ہو، اُس کی بات میں وزن ہو، لوگ اُسے مانیں۔ سوال یہ نہیں کہ عزت مانگنا جائز ہے یا نہیں، سوال صرف اتنا ہے کہ ہم یہ مانگنے کس کے دروازے پر جاتے ہیں۔ ہم عادتاً سمجھ لیتے ہیں کہ عزت عہدوں میں ہے، کرسیوں میں ہے، لوگوں کی واہ واہ میں ہے، اور اصل خزانہ کہیں اور پڑا رہ جاتا ہے۔
قرآن اس خواہش پر ڈانٹتا نہیں، صرف رخ بدل دیتا ہے اور بتا دیتا ہے کہ چشمہ کہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
”جو کوئی عزت چاہتا ہے تو عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے پاس ہے، اُسی کی طرف پاکیزہ کلمہ بلند ہوتا ہے، اور نیک عمل اُس کو بلند کرتا ہے۔“
قرآن، سورۃ فاطر ۳۵:۱۰ · مفہوم
یہ نہیں فرمایا کہ عزت مانگنا چھوڑ دو۔ فرمایا یہ کہ عزت چاہیے تو جس کے پاس ہے اُسی سے مانگو۔ لوگوں سے عزت سمیٹنا اُس کنویں سے پانی بھرنا ہے جو بار بار سوکھ جاتا ہے، ترقی مل جاتی ہے اور اگلے مہینے پیاس پھر وہیں کھڑی ہوتی ہے۔ جو عزت اللہ کی طرف سے ملے، وہ کسی دوسرے کے آگے بڑھنے سے کم نہیں ہوتی، اور نہ کوئی کمیٹی، نہ حالات کی کوئی گردش اُسے واپس لے سکتی ہے۔
پھر یہ بھی صاف بتا دیا کہ یہ خزانہ کن کے حصے میں آتا ہے:
”اور عزت تو اللہ کے لیے اور اُس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے ہے۔“
قرآن، سورۃ المنافقون ۶۳:۸ · مفہوم
یعنی جو ایمان اور عمل کے راستے پر چل پڑا، عزت کو اُس کے پیچھے آنا ہی ہے، اُسے دوڑ کر پکڑنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور آقا ﷺ نے ناپ تول کا پیمانہ بھی بتا دیا، کہ اللہ کے ہاں صورت اور مال نہیں دیکھے جاتے:
”بے شک اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۶۴c) · مفہوم
تو ترقی کے لیے محنت کیجیے، دل صاف رکھ کر کیجیے۔ اپنے ہنر سے آگے بڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ بس تکیہ اُسی ذات پر رہے جو اصل میں دیکھ رہی ہے، کیونکہ اُس کی نظر آپ کے دروازے کی تختی اور کارڈ پر لکھے عہدے تک محدود نہیں۔ یہ بات دل میں بیٹھ جائے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ عہدہ ملے تو شکر کے ساتھ لے لیجیے، ہاتھ سے نکل جائے تو آدمی بکھرتا نہیں، کیونکہ اُس کی قدر کا فیصلہ اُس کمرے میں ہو ہی نہیں رہا تھا۔
ایک چھوٹا قدم: جب کسی کی داد یا کسی کی نظر میں اونچا ہونے کی خواہش دل میں اٹھے، ایک لمحہ رُک کر دل ہی دل میں کہیے، ”یا اللہ، میری عزت تیرے پاس رکھ دے۔“ پھر ایک ایسی چھوٹی سی نیکی کر لیجیے جس کا کسی کو پتا بھی نہ چلے۔
