میں کبھی سوچتا ہوں کہ اگر میں بس زیادہ سے زیادہ نیک کام کرتا رہوں تو میری پرانی غلطیاں دب جائیں گی اور میں محفوظ ہو جاؤں گا۔ کیا معاملہ ایسے ہی چلتا ہے؟
Zyada nekiyan aur purani galtiyan
ایک حد تک بات ایسی ہی ہے، اور یہ حد سمجھ لینی چاہیے۔ نیکی میں واقعی یہ طاقت رکھی گئی ہے کہ پچھلی کوتاہیوں کو دھو دے، اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا وعدہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔
”بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔“
قرآن، سورۃ ہود ۱۱:۱۱۴ · مفہوم
اہلِ علم فرماتے ہیں کہ اس وعدے کا رخ بنیادی طور پر ان چھوٹی چھوٹی لغزشوں کی طرف ہے جو چلتے چلتے مسافر کے قدموں پر گرد کی طرح جم جاتی ہیں۔ اور جہاں کوئی بڑی بات دل پر بوجھ بنی ہو، وہاں بھی توبہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ تنہائی میں اپنے رب کے سامنے شرمندگی کے دو بول، آئندہ اُس راہ پر نہ جانے کا پکا ارادہ، اور اگر کسی بندے کا حق مارا گیا ہو یا کسی کا دل دکھا ہو تو خاموشی سے اس کی تلافی، اتنی بات سے وہ بوجھ بھی اتر جاتا ہے اور بندے اور اس کے رب کے درمیان کچھ باقی نہیں رہتا۔ غور کیجیے، اس ساری بات میں کہیں ڈانٹ نہیں۔ دو دروازے ہیں، دونوں کھلے ہیں، اور دونوں اسی کی رحمت ہیں۔
تو آپ کی سوچ کی بنیاد درست ہے۔ نبی کریم ﷺ نے یہی نسخہ نہایت آسان لفظوں میں سمجھا دیا، تاکہ کوئی دل مایوس نہ ہو۔
”کسی برائی کے بعد نیکی کر لیا کرو، وہ اسے مٹا دے گی۔“
نبی کریم ﷺ، سنن ترمذی (۱۹۸۷) · مفہوم
البتہ ایک بات اپنی اِس امید کے ساتھ رکھ لیجیے۔ نیکیاں وہ اینٹیں نہیں ہیں جو کسی دبی ہوئی چیز پر چن دی جائیں کہ نظر نہ آئے۔ نیکی وہ صاف پانی ہے جو بہتا رہے تو دل دھلا اور روشن رہتا ہے۔ فرق باہر کے عمل میں نہیں، اندر کے رخ میں ہے۔ نیکیاں محض اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے جمع ہوں تو نظر بار بار حساب کی طرف لوٹتی ہے۔ اور نیکی اللہ کی محبت میں، اس کی رضا کے لیے ہو، اور ساتھ رجوع بھی رہے، تو ماضی خود گھلتا چلا جاتا ہے اور اُس کی جگہ اطمینان سے بڑھ کر ایک چیز ملتی ہے، قرب۔
سو ایک نیکی کیجیے، پھر دوسری، اور ہر نیکی محبت سے کیجیے، قرض چکانے کے انداز میں نہیں۔ آپ کی کوتاہیاں کوئی دیوار نہیں جسے پھلانگنا ہے۔ راہ چلتے جو چھوٹی چھوٹی لغزشیں لگ جاتی ہیں وہ گیلی ریت پر پڑے نقشِ قدم جیسی ہیں، نیکی کی اگلی لہر انہیں ہموار کر دیتی ہے۔ اور جو بات اس سے گہری ہو، اس کے لیے ایک سچا رجوع کافی ہے، کیونکہ وہ لوٹنے والے دل کی طرف اس سے پہلے بڑھ آتا ہے کہ وہ دل اپنا پہلا قدم پورا کرے۔
اور جب غفلت کا کوئی لمحہ آ ہی جائے، جیسا ہر مسافر کے ساتھ ہوتا ہے، تو وہیں افسوس میں بیٹھ نہ جائیے۔ فوراً اگلی چھوٹی چیز کی طرف ہاتھ بڑھائیے، کسی سے نرمی، ایک نماز، ایک ہلکا سا ذکر، اور یہی وہ نیکی بن جائے جو پیچھے آ کر صاف کر دے۔ یہ گھبرا کر حساب لگانا نہیں، یہ لوٹنے کا وہ نرم سلسلہ ہے جو دل کو نرم اور پُرامید رکھتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج جب بھی کوئی نیکی کریں، خواہ کتنی چھوٹی ہو، اسے کرتے ہی دل میں ہلکے سے کہہ لیجیے، “یا اللہ، اسے قبول فرما اور میری کوتاہیوں کو معاف فرما دے”۔
