دل کے سوال

میں نماز پڑھتا اور روزے رکھتا ہوں، مگر اندر ہی اندر مجھ میں اب بھی حسد، تکبر اور تعریف پسندی موجود ہے۔ کیا اسلام کے پاس واقعی دل کی اِن پوشیدہ بیماریوں کا علاج ہے، یا میں انہی کے ساتھ بندھا رہوں گا؟

Hasad takabbur aur dil ka ilaj

اِن بیماریوں کا علاج اسلام میں موجود ہے، اور علاج کی ابتدا وہیں سے ہوتی ہے جہاں آپ اِس وقت کھڑے ہیں، یعنی اپنی بیماری کی پہچان۔ جو دل سُن پڑ جاتا ہے، اُسے تو کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا۔

نماز اور روزہ ظاہر کو سنوارتے ہیں اور بےحد قیمتی ہیں، اِنہیں کبھی کم نہ سمجھیے۔ مگر اِن کے ساتھ ایک کام اور بھی ہے، دل کی صفائی، اور تصوف کا اصل میدان یہی ہے۔ اسلام نے اِس باطنی علاج کو نظرانداز نہیں کیا، بلکہ اِسی کو کامیابی کی کسوٹی ٹھہرایا ہے۔ قیامت کے دن جن چیزوں پر ہمارا سارا بھروسا ہے، وہ کام نہ آئیں گی۔

”جس دن نہ مال نفع دے گا نہ بیٹے، مگر (فائدہ اُسی کو ہوگا) جو اللہ کے پاس سلامت دل لے کر آئے۔“

قرآن، سورۃ الشعراء ۲۶:۸۸-۸۹ · مفہوم

اللہ نے آخری کامیابی “قلبِ سلیم” سے جوڑی ہے، یعنی ایسا دل جو صحت مند اور صاف ہو۔ غور کیجیے، فرمایا یہ نہیں کہ ایسا دل جس میں کبھی حسد یا تکبر آیا ہی نہ ہو، بلکہ ایسا دل جو سلامت کر لیا گیا ہو۔ اگر دل کا سنورنا ممکن ہی نہ ہوتا تو یہ مطالبہ کیوں ہوتا؟ یہی اِس بات کی دلیل ہے کہ اِن پوشیدہ بیماریوں کا علاج ہے، اور راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔

اور یہ علاج ٹالنے کی چیز نہیں، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے بتا دیا کہ اِن بیماریوں کا ذرہ بھر بھی کتنا بھاری ہے۔

”جنت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۹۱a) · مفہوم

اِس فرمان کو دروازہ بند ہونے کی خبر نہ سمجھیے۔ یہ طبیب کا بیماری کا نام لینا ہے، تاکہ مریض دوا پر آمادہ ہو جائے۔ کبر، حسد اور ریا کا یہی بتدریج علاج تصوف کا اصل کام ہے، اور یہ وہی کشمکش ہے جو ہر سچے آدمی کو اپنے اندر نظر آتی ہے۔ تشخیص بتا کر آپ کو تنہا نہیں چھوڑا گیا، بلکہ عمر بھر کا ایک نرم علاج آپ کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔

ایک بات اِس کام کو ہلکا کر دیتی ہے۔ یہ بیماریاں گنتی میں کئی لگتی ہیں، ابھی حسد، تھوڑی دیر بعد تکبر، پھر تعریف کی پیاس، مگر سب ایک ہی چشمے سے پانی پیتی ہیں، اپنی ذات کی محبت۔ مال، عہدہ، نمایاں ہونا، لوگوں کی نظر میں اچھا کہلانا، یہ سب اُسی ایک جڑ کی شاخیں ہیں۔ اِسی لیے بندے اور اُس کے رب کے درمیان اصل پردہ باہر کی دنیا نہیں، اندر کا نفس ہے۔ جوں جوں یہ نفس اپنے تقاضوں سے خالی ہوتا جاتا ہے، دل میں گنجائش نکلتی جاتی ہے، اور اُسی گنجائش میں اللہ کی محبت اُتر آتی ہے۔ تو لڑائی سو دشمنوں سے نہیں، بس ایک ہی جڑ کی نگہداشت کرنی ہے، اور وہ نرم پڑے تو ہر شاخ نرم پڑ جاتی ہے۔

علاج کوئی ایک بڑا کارنامہ نہیں، آہستہ آہستہ دل کو نئے سانچے میں ڈھالنا ہے۔ نقشبندی مجدّدی بزرگوں نے اِس کا طریقہ یوں بتایا ہے: شیخ کی صحبت، ذکرِ الٰہی، اپنے اعمال پر مسلسل نگاہ، اور اپنی نعمتوں کو اللہ کی طرف لوٹانا۔ دل جب بار بار کہتا ہے کہ یہ سب اُسی کا دیا ہوا ہے، تو تکبر پگھلنے لگتا ہے۔ اور جب دل دوسرے کی نعمت دیکھ کر اُسی کے لیے مزید کی دعا کرنا سیکھ لیتا ہے، تو حسد کی جگہ محبت لے لیتی ہے۔ یہ راتوں رات نہیں ہوتا، مگر ہوتا ضرور ہے۔ جس دل کے سلامت ہو جانے کا وعدہ خود اللہ نے کیا ہے، اُس سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔

ایک چھوٹا قدم: آج جب بھی کسی کی کوئی خوبی، کامیابی یا نعمت دیکھ کر دل میں ذرا سی کھٹک محسوس ہو، فوراً دل ہی دل میں اُس کے لیے دعا کر دیجیے: “یا اللہ، اِسے اور نواز دے، اور مجھے بھی۔” بس یہی ایک چھوٹی سی دعا حسد کے زخم پر ٹھنڈا مرہم ہے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔