کیا میری توبہ قبول ہونے کے لیے مجھے کسی عالم یا پیر کے سامنے اپنا گناہ اعتراف کرنا ضروری ہے، یا میں سیدھا اکیلے اللہ کی طرف رجوع کر سکتا ہوں؟
Gunah aalim ya peer ko batana
اِس معاملے میں دل کو تسلی دے لیجیے۔ آپ اور آپ کے رب کے درمیان نہ کوئی پردہ ہے، نہ کوئی واسطہ، نہ کوئی دربان۔ گناہ بخشنے کا اختیار کسی عالم، کسی بزرگ یا کسی پیر کے پاس نہیں، یہ اختیار صرف اُسی ذات کا ہے جو غفور و رحیم ہے۔ ہمارے سلسلۂ نقشبندیہ میں شیخ راستے کا چراغ ہے اور سفر کا ساتھی، یہ بڑی نعمت ہے، مگر وہ کوئی ایسا دروازہ نہیں جس سے گزر کر آپ کی توبہ اوپر پہنچتی ہو۔
قرآن نے ایک ہی سوال میں یہ بات طے کر دی ہے۔
”اور اللہ کے سوا گناہوں کو بخشتا بھی کون ہے؟“
قرآن، سورۃ آل عمران ۳:۱۳۵ · مفہوم
اِس سوال کا جواب ایک ہی ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ تو جب بخشنے والا وہی اکیلا ہے، معافی بھی سیدھی اُسی سے مانگی جائے گی۔ رات کے کسی خاموش پہر میں، اپنے کمرے کی تنہائی میں، کسی کو بتائے بغیر، آپ اپنے دل کی ساری بات اُس سے کہہ سکتے ہیں۔ وہ آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، اُس تک بات پہنچانے کے لیے کسی کو درمیان میں لانے کی ضرورت ہی نہیں۔
پھر یہ بھی فرما دیا کہ توبہ قبول کرنا اُس کا اپنا کام ہے، جو وہ اپنے بندوں سے بلاواسطہ خود انجام دیتا ہے۔
”اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔“
قرآن، سورۃ الشوریٰ ۴۲:۲۵ · مفہوم
لفظوں پر غور کیجیے، اپنے بندوں کی توبہ۔ یعنی سیدھی، بیچ میں کوئی نہیں۔ اندھیرے میں کہی ہوئی آپ کی سرگوشی بھی بغیر کسی واسطے کے اُس تک پہنچتی ہے، اور وہ لوٹنے والے کی ہلکی سی آہ پر بھی کان دھرتا ہے۔
اِس سے یہ نہ سمجھیے کہ اہلِ علم اور مخلص رہنماؤں کی کوئی اہمیت نہیں۔ عالم اور مربی سے ہم راستے کی روشنی لیتے ہیں، دل کی گرہیں کھلواتے ہیں اور نیکی پر جمے رہنے کا حوصلہ پاتے ہیں۔ مگر معافی اُن کے سامنے اعتراف کرنے سے نہیں ملتی، وہ براہِ راست اللہ سے ملتی ہے۔ چاہیں تو اپنی الجھن کسی مخلص رہنما کے سامنے مشورے کے لیے رکھ لیں، مگر بخشش کے لیے کسی کے سامنے اپنا راز کھولنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ نے تو پردہ رکھنے ہی کو پسند فرمایا ہے۔
شرم یا اپنی کم مائیگی کا احساس آپ کو یہ نہ سوچنے دے کہ پہلے کوئی صحیح آدمی ڈھونڈنا ہے، پھر رجوع کرنا ہے۔ رحمت کا دروازہ ہر وقت، بغیر اجازت اور بغیر واسطے کے کھلا ہے۔ جب چاہیں، جہاں چاہیں، سیدھے اُسی کی طرف ہاتھ اٹھا لیجیے۔
ایک چھوٹا قدم: آج تنہائی میں، کسی کو بتائے بغیر، صرف دو منٹ کے لیے اپنے دل کی بات براہِ راست اللہ کے سامنے رکھیے اور سچے دل سے معافی مانگ لیجیے، اور یقین رکھیے کہ وہ سن رہا ہے اور قبول فرما رہا ہے۔
