میں اس ماحول میں پلا بڑھا کہ مرد نرمی نہیں دکھاتا۔ اب میرے بچے مجھ سے ڈرتے لگتے ہیں۔ کیا باپ کا بچوں کے ساتھ نرم ہونا کمزوری ہے؟
Baap ki narmi kamzori nahi
مردانگی کی جو تصویر آپ نے بچپن میں دیکھی، اُسی کو سچ مان کر نبھاتے رہے، کیونکہ آپ کو بتایا گیا تھا کہ طاقت اسی کا نام ہے۔ اب بچوں کے چہروں پر جھجک دیکھ کر دل بیٹھ جاتا ہے۔ یہ بےچینی بےکار نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہے، بلکہ یہ کہ محبت موجود ہے اور اسے آج تک باہر آنے کا راستہ نہیں ملا۔ سختی آپ کا مزاج نہیں، ورثے میں ملی ایک عادت ہے، اور عادت بدل سکتی ہے۔
دیکھیے، نبی کریم ﷺ بچوں کے ساتھ کیسے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ اپنے نواسے کو گود میں لیتے اور سب کے سامنے بوسہ دیتے، اور اس میں ذرا سا چھوٹا پن بھی محسوس نہ کرتے۔ ایک دیہاتی نے یہ منظر دیکھا تو کہنے لگا کہ میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ اُس کے ہاں بھی وہی رواج چلا آ رہا تھا، جیسے آپ کے ہاں چلا آیا ہے۔
”جو رحم نہیں کرتا، اُس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۶۰۱۳) · مفہوم
اس ایک جملے میں پوری بات آ گئی۔ رحم کرنے سے آدمی کا کچھ کم نہیں ہوتا، بلکہ اوپر سے رحمت اترنے کا دروازہ کھلتا ہے۔ دنیا کے سب سے مضبوط انسان سب سے زیادہ شفیق بھی تھے، اور اُن میں یہ دونوں باتیں کبھی ایک دوسرے کے مقابل نہ آئیں۔
ایک اور واقعہ سنیے۔ آپ ﷺ نماز میں سجدے میں تھے کہ ننھے نواسے پیٹھ پر چڑھ گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں اتارنے کے بجائے سجدہ لمبا کر دیا۔
ایک بار آپ ﷺ نے سجدہ طویل فرما دیا، کیونکہ آپ کے نواسے آپ کی پیٹھ پر سوار ہو گئے تھے۔
راوی: حضرت شدّاد بن الہاد رضی اللہ عنہ، سنن نسائی (۱۱۴۱)، نیز مسند احمد، اسنادِ صحیح · مفہوم
بچے کے لیے کیا گیا یہ صبر عبادت میں کمی نہیں لایا، بلکہ اُس عبادت کو اور نرم اور زندہ کر گیا۔ آج کے زمانے میں جو لوگ باپ کے کردار پر غور کرتے ہیں، اُن کی بات بھی اسی طرف جاتی ہے کہ باپ کی شفقت ہی سے بچے میں اعتماد اور تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اور تجربہ یہی بتاتا ہے کہ محبت اور ادب ساتھ ساتھ بڑھتے ہیں، ایک دوسرے کے لیے جگہ بناتے ہوئے۔ بچوں کو دیوار کی ضرورت نہیں، اُس درخت کی ضرورت ہے جس پر وہ چڑھ سکیں اور جس کے سائے میں بیٹھ سکیں۔
تو یہاں کچھ گرانا نہیں ہے، صرف جو اندر بند پڑا ہے اُسے باہر آنے دینا ہے۔ جو محبت چھپانا سکھائی گئی تھی، وہ ختم نہیں ہوئی، اجازت کی منتظر ہے۔ تھوڑی تھوڑی اجازت دیتے جائیے، اور دیکھیے کہ اُن آنکھوں کا ڈر آہستہ آہستہ خوشی میں بدل جاتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج ایک لمحہ ایسا نکالیں جس میں جلدی نہ ہو، سونے کا وقت ہی سہی، اور اپنے بچے کے سر پر ہاتھ رکھیں یا اسے گلے لگا لیں۔ نہ کوئی ٹوکنا، نہ کوئی نصیحت۔
