ہر رمضان میں مجھے اللہ سے قربت محسوس ہوتی ہے اور میں پوری طرح بدل جاتا ہوں، مگر شوال کے دوسرے ہفتے تک میں پھر اپنے پرانے حال پر آ جاتا ہوں۔ اسے دیرپا کیسے بناؤں؟
Ramzan ke baad purani halat wapas
پہلی بات یہ دیکھو کہ ہو کیا رہا ہے۔ ہر رمضان میں دروازہ کھلتا ہے اور دل خود بخود اپنے رب کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ جو دل سال بہ سال یوں لوٹتا رہے، اس نے دامن چھوڑا نہیں ہے۔ طلب موجود ہے، بجھی نہیں۔ اس لیے سوال یہ نہیں کہ وہ کیفیت دوبارہ کہاں سے لائی جائے، سوال یہ ہے کہ مہینہ گزر جانے کے بعد اسے کیسے تھاما جائے۔
غلطی ہم سے عام طور پر یہاں ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں عبادت کو موسم کی طرح لیا جاتا ہے، بارش کا موسم آیا اور گزر گیا۔ رمضان میں اڑان اتنی اونچی ہوتی ہے کہ اس بلندی پر سارا سال رہنا کسی کے بس میں نہیں۔ پھر شوال آتا ہے، سب کچھ ایک ساتھ چھوٹ جاتا ہے اور دل بیٹھ جاتا ہے۔ بات بلندی کی نہیں، دوام کی ہے۔
”اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشگی کے ساتھ کیا جائے، خواہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۴۶۴ / مسلم ۷۸۳b) · مفہوم
غور کرو، آپ ﷺ نے بڑے اور بھاری عمل کو محبوب نہیں فرمایا، بلکہ اُس چھوٹے عمل کو محبوب فرمایا جو رُکتا نہیں۔ اللہ کے ہاں ایک لمبی چھلانگ کی وہ قدر نہیں جو روز اٹھنے والے چھوٹے چھوٹے قدموں کی ہے۔ اسی لیے سمجھ داری اس میں ہے کہ رمضان کے بعد ساری بلندی ایک ساتھ اپنے اوپر لاد لینے کے بجائے اُس عبادت کا صرف وہ حصہ چن لیا جائے جو بارہ مہینے نبھ سکے۔ تھوڑا مگر ہمیشہ، یہی وہ زینہ ہے جس پر قدم نہیں پھسلتا۔
اور جس استقامت کی طلب دل میں ہے، وہ محض تمہاری اپنی خواہش نہیں، خود رب کا حکم ہے، اور جس بات کا وہ حکم دیتا ہے اس کی توفیق بھی اُسی کے ہاتھ میں ہے۔
”پس آپ ثابت قدم رہیں جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔“
قرآن، سورۃ ہود ۱۱:۱۱۲ · مفہوم
یہ نہیں فرمایا گیا کہ تیز دوڑو یا سب سے آگے نکل جاؤ، فرمایا گیا کہ سیدھے اور جمے رہو۔ استقامت کا مطلب یہ نہیں کہ قدم کبھی ڈگمگائے ہی نہ، مطلب یہ ہے کہ ڈگمگا کر بھی راستے پر واپس آ جاؤ اور چلتے رہو۔ بزرگوں کی نقشبندی مجددی راہ میں بھی دوام کی تعلیم یہی ہے، کہ ذکر اور معمول مختصر ہو تو ہو، مگر ٹوٹنے نہ پائے۔ جو چراغ ساری رات مدھم مگر مسلسل جلتا رہے، وہ اُس شعلے سے بہتر ہے جو پل بھر میں بھڑک کر بجھ جائے۔
ایک چھوٹا قدم: رمضان میں جس ایک عبادت سے سب سے زیادہ قربت محسوس ہوئی تھی، اُس کا صرف سب سے چھوٹا حصہ چن لو، مثلاً روزانہ فجر کے بعد ایک صفحہ قرآن یا تین منٹ کا ذکر، اور آج ہی سے شروع کر دو، اس نیت کے ساتھ کہ یہ چھوٹا معمول سال بھر نہیں ٹوٹے گا۔
