دل کے سوال

میں دھیان لگانے کی اتنی کوشش کرتا ہوں کہ پوری نماز اپنے ہی خیالات سے لڑتا رہتا ہوں اور تھکا ہارا اور شکست خوردہ محسوس کرتا ہوں۔ کیا میں خشوع غلط طریقے سے کر رہا ہوں؟

Khayalat se larna aur khushu

خشوع آپ سے غلط نہیں ہو رہا، بس آپ نے اسے لڑائی سمجھ لیا ہے۔ نماز کے شروع سے آخر تک آپ خیالات کو پکڑ پکڑ کر پرے دھکیلتے رہتے ہیں، اور جو خیال آ جائے اسے اپنی شکست سمجھ بیٹھتے ہیں۔ تھکن اور شکست کا احساس اسی سے پیدا ہوتا ہے۔

حالانکہ خشوع سختی کا نہیں، نرمی کا نام ہے۔ دل کے ڈھیلا پڑ کر اللہ کی طرف جھک جانے کا نام ہے۔ خیالات سے جتنا زور لگا کر لڑیں گے، ذہن اتنا ہی تنتا چلا جائے گا، جیسے پانی کو مٹھی میں بھینچیں تو وہ اور تیزی سے نکل جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب بھی دھیان بھٹکے اور آپ نرمی سے اسے واپس لے آئیں، یہی واپسی عبادت ہے۔ سو بار دھیان بھٹکا تو آپ سو بار ہارے نہیں، سو بار اللہ کی طرف لوٹے ہیں، اور وہ لوٹنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

دین میں آسانی بنیاد ہی سے رکھی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ تھکے ہوئے بدن سے وہ کمال نہیں مانگتا جو اس میں ہے ہی نہیں۔

”اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔“

قرآن، سورۃ البقرۃ ۲:۲۸۶ · مفہوم

جب مالک نے خود فرما دیا کہ وہ طاقت سے زیادہ نہیں چاہتا، تو پھر آپ اپنے آپ سے وہ کیوں مانگتے ہیں جو اُس نے مانگا ہی نہیں؟ اور یہ بات دل میں اچھی طرح بٹھا لیجیے کہ جو خیال بن بلائے آ جائے، علماء فرماتے ہیں کہ اُس پر کوئی گرفت نہیں، کوئی گناہ نہیں۔ ذہن کو خالی رکھنے کا مطالبہ کسی سے نہیں کیا گیا۔ مطالبہ صرف نرم واپسی کا ہے، اور بار بار کی یہی واپسی آپ کے نامۂ اعمال میں عبادت بن کر لکھی جاتی ہے۔

دیکھیے، نبی کریم ﷺ نے رات کی نماز میں اونگھتے ہوئے نمازی کے ساتھ کیسا معاملہ فرمایا۔ اُسے ڈٹے رہنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ فرمایا:

”جب تم میں سے کسی کو نماز میں اونگھ آنے لگے تو وہ سو جائے، یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۲۱۳) · مفہوم

یہ ارشاد اونگھ کے بارے میں ہے، اُس حالت کے بارے میں جب نیند اتنی غالب آ جائے کہ آدمی کو خبر ہی نہ رہے کہ اُس کی زبان کیا کہہ رہی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تھکن یا بے توجہی کے سبب فرض نماز کو اُس کے وقت سے ٹال دیا جائے۔ مگر اس میں جو نرمی ہے، ذرا اُس پر غور کیجیے۔ جب دین اونگھتے ہوئے نمازی کے ساتھ اتنا نرم ہے تو محبت کی محنت میں تھک جانے والے دل کے ساتھ سخت کیونکر ہو گا۔ ہمارے نقشبندی مجددی بزرگوں کا طریقہ بھی یہی رہا ہے کہ حضورِ قلب زور زبردستی سے نہیں، نرم واپسی سے بڑھتا ہے۔

سو اب تلوار رکھ دیجیے۔ نماز میں یوں آئیے جیسے کسی نہایت مہربان دوست کے پاس بیٹھنے جا رہے ہوں، اور جب دل اپنے اندیشوں کی طرف نکل جائے تو اسے ڈانٹے بغیر واپس لے آئیے۔ صبر کے ساتھ بار بار کی ہوئی یہی واپسی وہ خشوع ہے جس کے کھو جانے کا آپ کو ڈر تھا۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی نماز میں خیالات سے لڑنا چھوڑ دیجیے۔ جب دھیان بھٹکے تو نرمی سے کسی ایک چیز پر دل ٹکا کر آگے بڑھ جائیے، مثلاً ”اللہ اکبر“ کے معنی پر، اور اپنے آپ کو ملامت کا ایک لفظ بھی نہ کہیے۔ نماز سے پہلے تھکن یا اونگھ ہو تو چند لمحے سستا کر، تازہ دم ہو کر کھڑے ہوں۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔