ایک آجر کے طور پر میں بازار کی اجرت دیتا ہوں اور میرے ملازمین نے اسے قبول کیا ہے، تو کیا میں ان کے بارے میں کسی مزید ذمہ داری سے بری ہوں؟
Mulazmeen ka haq sirf tankhwah nahi
بازار کی اجرت دینا اور ملازم کا اسے قبول کر لینا انصاف کی بنیاد ہے، اور اتنا آپ نے کر لیا، یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ لیکن دین ہمیں انصاف کی چوکھٹ پر ہی نہیں چھوڑ دیتا، وہ احسان کے آنگن تک لے جاتا ہے۔ آجر اور ملازم کا رشتہ ان امانتوں میں سے ہے جو آدمی اپنی کمائی کے ساتھ ساتھ اٹھاتا ہے۔
پہلے آقا ﷺ کا وہ ارشاد دیکھیے جو خدمت کرنے والے کے معاملے میں دسترخوان تک پہنچ جاتا ہے۔
”جب تمہارا خادم تمہارا کھانا تمہارے پاس لے کر آئے تو اگر وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر شریکِ طعام نہیں کرتا تو کم از کم اسی کھانے میں سے ایک لقمہ یا دو لقمے، یا ایک آدھ حصہ اسے ضرور دے دے، کیونکہ اسی نے وہ کھانا تیار کیا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۲۵۵۷) · مفہوم
دیکھیے، نگاہ کہاں تک جاتی ہے۔ جن ہاتھوں نے کھانا تیار کیا، ان کے حصے میں صرف اس کی خوشبو نہ رہ جائے۔ جب ایک لقمے جیسی بات میں اتنا خیال رکھنے کا حکم ہے تو اصل حق، یعنی اجرت، کے معاملے میں ٹال مٹول کتنی بھاری چیز ہے، یہ آقا ﷺ نے کھول کر بیان فرما دیا۔
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تین شخص ایسے ہیں جن کا میں قیامت کے دن مقابل ہوں گا، اور ان میں سے ایک وہ ہے جس نے کسی مزدور کو کام پر رکھا، اس سے پورا کام لیا، مگر اس کی مزدوری ادا نہ کی۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۲۲۷۰) · مفہوم
جس کے مقابل خود اللہ کھڑا ہو جائے، وہ کہاں جائے۔ آپ کا معاملہ اس سے الگ ہے، آپ تو اس سے آگے کی بات پوچھ رہے ہیں۔ سو اب اصل سوال کی طرف آتے ہیں، کہ اجرت دے دینے کے بعد کوئی ذمہ داری باقی رہتی ہے یا نہیں۔ آقا ﷺ نے ایک موقع پر اُن لوگوں کے بارے میں فرمایا جو گھر کے اندر خدمت پر مامور تھے۔ اُس زمانے میں ایسا خادم آقا ہی کی چھت تلے رہتا تھا اور دونوں کے درمیان کوئی اجرت حائل نہ ہوتی تھی۔
”انہیں اسی میں سے کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو، اور اسی میں سے پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو، اور ان پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جو ان کی طاقت سے باہر ہو۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۳۰ / مسلم ۱۶۶۱a) · مفہوم
یہ ارشاد چونکہ گھر کے اُسی ماحول کے بارے میں ہے، اس لیے اس کا مطلب یہ نہیں کہ تنخواہ کے اوپر کھانا اور کپڑا بھی الگ سے آپ کے ذمے کوئی قرض ہے۔ مگر دیکھیے کہ انسانیت کا معیار کہاں رکھ دیا گیا۔ جو آسائش صاحبِ خانہ تک پہنچتی تھی، وہی خدمت کرنے والے تک بھی پہنچے، تاکہ کوئی شخص دوسرے کی نگہداشت میں خود کو اجنبی نہ سمجھے۔ جب اپنی چھت تلے رہنے والوں کے لیے یہ پیمانہ تھا تو جو شخص ہمارے کام سے اپنی روزی کماتا ہے اور شام کو اپنے گھر لوٹ جاتا ہے، وہ بھی اس سے کم کا حق دار نہیں۔ اور اس میں ایک بات تو ہر زمانے کی ہر کام کی جگہ پر بغیر کسی فرق کے صادق آتی ہے، کہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔
آج کام کی جگہوں پر تحقیق کرنے والے بھی اسی نتیجے تک پہنچے ہیں کہ اکیلی تنخواہ لوگوں کو باندھ کر نہیں رکھ سکتی۔ آدمی کو ٹکاؤ اور اطمینان اس سے ملتا ہے کہ کام کا بوجھ اس کی طاقت کے مطابق ہو، برتاؤ انصاف کا ہو، اور اسے یہ محسوس ہو کہ اسے ایک انسان سمجھا جا رہا ہے، محض کام کرنے والے دو ہاتھ نہیں۔ اجرت آپ نے ادا کر دی، وہ ان کا حق تھا۔ اس کے بعد نرمی، ان کی عزتِ نفس کا خیال، تنگی میں دلجوئی اور شیریں کلامی، یہ وہ چیزیں ہیں جو حساب سے آگے کی ہیں، اور احسان کا دروازہ اسی طرف کھلتا ہے۔ اس دروازے سے گزرنے والے کو اللہ خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔
ایک چھوٹا قدم: اس ہفتے اپنے کسی ایک ملازم کے پاس رک کر، بغیر جلدی کے، اس کا نام لے کر پوچھیے کہ کام کا بوجھ سنبھل رہا ہے یا نہیں، اور گھر میں سب خیریت ہے۔ پھر وہ جو بات بتائے، اس میں سے کوئی ایک چھوٹی چیز ٹھیک کر دیجیے۔
