Questions of the Heartدل کے سوال
Repentance & the Returnتوبہ اور واپسی

Sometimes I delay repenting because I think I’ll do it properly later when I’ve fully stopped the sin. Is it foolish to keep asking forgiveness while I’m still slipping?کبھی کبھی میں توبہ ٹال دیتا ہوں یہ سوچ کر کہ بعد میں جب گناہ پوری طرح چھوڑ دوں گا تو ٹھیک سے کروں گا۔ کیا یہ بےوقوفی ہے کہ میں پھسلتے ہوئے بھی معافی مانگتا رہوں؟

You are holding repentance back until the sin has fully stopped, as though it were a door you may only walk through once you have already left the old habit behind, cleaned and changed and finished. But the return to Allah was never meant to wait for that. It begins where you are, in the middle of the struggle, with the dust still on your feet.

See how your Lord calls you, not with a slow and distant beckoning, but with the word ‘hasten’:

“And hasten to forgiveness from your Lord.”

Qur’an, Al-Imran 3:133 · meaning

He does not say hasten once you have stopped. He says hasten now, quickly, as one moves toward something too precious to delay. If forgiveness were only for those who had already conquered themselves, why would He urge speed? The haste itself tells you that the door is open while you are still walking, still stumbling, still human.

And the Prophet (peace be upon him) relates this to us from Allah Himself, about a servant who fell, and rose, and fell again:

“A servant committed a sin and said, ‘My Lord, I have sinned, so forgive me.’ His Lord said, ‘Does My servant know that he has a Lord who forgives sin and holds to account for it? I have forgiven My servant.’ Then he remained as long as Allah willed, then he sinned again and said, ‘My Lord, I have sinned again, so forgive me.’ He said, ‘Does My servant know that he has a Lord who forgives sin and holds to account for it? I have forgiven My servant.’ Then he remained as long as Allah willed, then he sinned again and said, ‘My Lord, I have sinned again, so forgive me.’ He said, ‘Does My servant know that he has a Lord who forgives sin and holds to account for it? I have forgiven My servant, so let him do as he wishes.'”

The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari (7507) · meaning

Look how closely that matches your own days. This servant did not stop sinning first and then ask. He fell, he asked, he was forgiven, then he fell again, and asked again, and was forgiven again, and the pardon was never held back until his record came clean. And see what earns him this: he knows he has a Lord who forgives. That knowing is the whole matter. Turning back while you are still unsteady is not an abuse of His mercy, it is thinking well of Him, and that is what He loves. As for the closing words, “let him do as he wishes”, the scholars explain them plainly: as long as he keeps returning in this way, he will keep being forgiven. It is a promise to the one who comes back, not a permission to wander off.

So there is nothing foolish in asking forgiveness while you are still finding your footing. The foolishness would be to wait, and to let the dust of delay settle over a heart that could have been washed clean today. A gardener does not refuse to water a plant until it has finished growing. He waters it precisely because it is still growing. Water your heart now, and let the growing continue under that mercy.

One small step: The next time the thought “I’ll repent properly later” arises, pause right where you are and quietly say “Astaghfirullah” three times, without waiting to first become perfect.

تم نے توبہ کو اُس دن کے لیے رکھ چھوڑا ہے جب گناہ بالکل چھوٹ جائے گا، گویا توبہ کوئی ایسا دروازہ ہے جس سے صرف وہی گزر سکتا ہے جو اپنی پرانی عادت کا گھر پہلے سے چھوڑ آیا ہو۔ مگر اللہ کی طرف پلٹنا کبھی اِس شرط سے بندھا ہوا نہ تھا۔ یہ وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں آدمی اِس وقت کھڑا ہے، بیچ کشمکش میں، پیروں پر گرد لیے ہوئے۔

توبہ گناہ چھوڑنے کا انعام نہیں، بلکہ وہی سہارا ہے جس کے بل پر آدمی گناہ چھوڑنے کے قابل ہوتا ہے۔ چلنا سیکھنے والا بچہ گرتے سنبھلتے ہی چلنا سیکھتا ہے۔ اگر وہ یہ طے کر لے کہ پہلے پورا چلنا آ جائے، تب کھڑا ہوں گا، تو قدم ہی نہ اٹھے۔

پھر دیکھو، اللہ نے توبہ کے لیے مہلت نہیں، جلدی کا حکم دیا ہے۔

”اور اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑ کر بڑھو۔“

قرآن، سورۃ آل عمران ۳:۱۳۳ · مفہوم

فرمایا، دوڑ کر بڑھو۔ یہ نہیں فرمایا کہ جب راستہ بالکل صاف ہو جائے، تب چلنا۔ اگر مغفرت صرف اُن کے لیے ہوتی جو اپنے نفس پر پورا قابو پا چکے ہیں، تو جلدی کا حکم کیوں دیا جاتا؟ یہی جلدی بتا رہی ہے کہ دروازہ اُس وقت بھی کھلا ہے جب آدمی چل رہا ہے، لڑکھڑا رہا ہے، ابھی راستے میں ہے۔ اب وہ منظر سنو جو نبی کریم ﷺ نے اپنے رب کے حوالے سے بیان فرمایا، ایک ایسے بندے کا حال جو گرا، اٹھا، اور پھر گرا۔

”ایک بندے نے گناہ کیا، پھر عرض کیا، اے میرے رب، مجھ سے گناہ ہو گیا، تُو مجھے بخش دے۔ اُس کے رب نے فرمایا، کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اُس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور اُس پر گرفت بھی فرماتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا وہ رہا، پھر اُس سے گناہ ہو گیا اور اُس نے کہا، اے میرے رب، مجھ سے پھر گناہ ہو گیا، تُو مجھے بخش دے۔ فرمایا، کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اُس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور اُس پر گرفت بھی فرماتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا وہ رہا، پھر اُس سے گناہ ہو گیا اور اُس نے کہا، اے میرے رب، مجھ سے پھر گناہ ہو گیا، تُو مجھے بخش دے۔ فرمایا، کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اُس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور اُس پر گرفت بھی فرماتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، اب وہ جو چاہے کرے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۷۵۰۷) · مفہوم

اِس منظر میں ذرا اپنے دن رات کو دیکھو۔ اُس بندے نے پہلے گناہ چھوڑا اور پھر معافی نہیں مانگی، بلکہ گرا، مانگی، بخشا گیا، پھر گرا، پھر مانگی، پھر بخشا گیا۔ بخشش کبھی اِس شرط پر نہ روکی گئی کہ پہلے دامن بالکل صاف ہو۔ اور جس بات نے اُسے یہ سب دلوایا، وہ یہ تھی کہ وہ جانتا تھا کہ اُس کا ایک بخشنے والا رب ہے۔ یہی جاننا اصل سرمایہ ہے۔ لڑکھڑاتے ہوئے پلٹ آنا رحمت سے ناجائز فائدہ اٹھانا نہیں، اپنے رب سے اچھا گمان رکھنا ہے، اور یہی بات اُسے پسند ہے۔ رہا آخری جملہ ”اب وہ جو چاہے کرے“، تو اہلِ علم نے اِس کا مطلب صاف کھول دیا ہے، یعنی جب تک بندہ اِسی طرح پلٹتا اور معافی مانگتا رہے گا، اِسی طرح بخشا جاتا رہے گا۔ یہ لوٹ آنے والے کے لیے وعدہ ہے، بھٹک جانے کی اجازت نہیں۔

سو لڑکھڑاتے ہوئے معافی مانگتے رہنے میں کوئی بےوقوفی نہیں۔ بےوقوفی ٹال دینے میں ہے، کہ جو دل آج دھل سکتا تھا، اُس پر تاخیر کی گرد جم جائے۔ باغبان یہ کہہ کر پودے کو پانی دینا نہیں چھوڑتا کہ پہلے پورا بڑھ تو جائے، وہ پانی اِسی لیے دیتا ہے کہ پودا ابھی بڑھ رہا ہے۔ آج ہی اپنے دل کو سیراب کرو، اور بڑھنے کا کام اِسی رحمت کے سائے میں چلتا رہے گا۔

ایک چھوٹا قدم: جب بھی یہ خیال آئے کہ بعد میں سلیقے سے توبہ کر لوں گا، اُسی وقت، وہیں کھڑے کھڑے، دل ہی دل میں کہہ لو، اے میرے رب، میں پھر تیری طرف لوٹ آیا۔ اِسے کل پر نہ ٹالو، خواہ ایسا کتنی ہی بار ہو۔

Share this with someoneیہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
WhatsAppواٹس ایپ Facebookفیس بک Xایکس Telegramٹیلیگرام

A word before you act on this

These answers are offered for general reflection and encouragement. They are not a fatwa, and not a ruling for your own situation. Halal and haram, worship, marriage, divorce, inheritance and wealth turn on details only a Mufti can weigh once he has heard your circumstances in full, so please take such matters to your nearest Dar ul Iftaa.

Nothing here is medical, psychological, legal or financial advice. Where your health, your safety or your livelihood is involved, please also ask a qualified professional, and if anyone is in danger, seek help at once.

Verses and narrations are given as a rendering of the meaning together with the reference, so you can look them up yourself. A translation is not itself scripture. Every reference has been checked with care, yet human effort remains human. If you find a mistake, tell us and we will correct it.

May Allah accept what is correct here, and forgive what is mistaken.

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔