Questions of the Heartدل کے سوال
Dunya & Akhirahدنیا و آخرت

How do I keep my intention pure when I genuinely need the money and I’m working long hours for my family?جب مجھے واقعی پیسے کی ضرورت ہے اور میں اپنے گھر والوں کے لیے لمبے گھنٹے کام کر رہا ہوں تو میں اپنی نیت خالص کیسے رکھوں؟

The long hours and the tiredness are real, and so is the need. Here is something that changes nothing about your schedule and everything about what it is worth: your work and your worship need not be two separate things.

The whole matter turns on one teaching of the Prophet, peace be upon him.

“Actions are but by intentions, and every person shall have only what he intended.”

The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim (Bukhari 1 / Muslim 1907a) · meaning

See what this opens. Needing the money does not spoil your intention. A sincere intention does not ask you to stop needing; it asks you to remember, quietly, for whom you are working. The provision is Allah’s arrangement, and your sitting at that desk to feed those He entrusted to you can itself be lifted toward Him.

“Say, indeed my prayer, my rites, my living and my dying are for Allah, Lord of the worlds.”

Qur’an, Al-An’am 6:162 · meaning

Your living, your whole working life, can be gathered into those words: for Allah. And if you fear that ordinary, worldly-seeming toil is too small to count, notice how the Prophet, peace be upon him, measured even the smallest act at home.

“You will never spend anything, seeking by it the Face of Allah, except that you are rewarded for it, even the morsel you raise to your wife’s mouth.”

The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari (56) · meaning

If one morsel placed in love is rewarded, the hours you spend so that the morsel exists at all are not lost. One sincere intention, renewed at the start of the day, turns an ordinary workday into an act of worship. The masters of our Naqshbandi-Mujaddidi way teach exactly this: keep the heart with Allah while the hands are busy with the world, and the marketplace becomes a place of remembrance.

One small step: Before you begin work tomorrow, pause for one breath and say in your heart, “Ya Allah, I do this for You, to care for those You have given me,” and let that one intention carry the whole day.

لمبے گھنٹوں کی تھکن بھی حقیقت ہے اور گھر کی ضرورت بھی۔ مگر ایک بات ذہن میں رہ جائے تو نہ اوقاتِ کار بدلتے ہیں، نہ مصروفیت کم ہوتی ہے، البتہ اِس ساری محنت کی قیمت بدل جاتی ہے، اور وہ بات یہ ہے کہ کمائی اور عبادت کا الگ الگ ہونا ضروری نہیں۔ سارا معاملہ نیت کا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:

”اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اُس نے نیت کی۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۱ / مسلم ۱۹۰۷a) · مفہوم

اس ایک جملے میں کتنی گنجائش ہے۔ دفتر میں دیر تک بیٹھنا یا مزدوری میں کمر جھکانا، اگر صرف مال جوڑنے کے لیے ہو تو ہاتھ میں تھکن کے سوا کچھ نہیں رہتا، اور یہی کام اگر اہل و عیال کو حلال کھلانے، انہیں دوسروں کے سوال سے بچانے اور اُن امانتوں کی کفالت کے لیے ہو جو اللہ نے آپ کے سپرد کی ہیں، تو وہی تھکن عبادت میں لکھی جاتی ہے۔ ضرورت کا ہونا نیت کو خراب نہیں کرتا۔ نیت کے خالص رہنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ کام شروع کرنے سے پہلے دل کو یاد دلا دیا جائے کہ یہ سب کس کے لیے ہو رہا ہے۔

قرآن نے تو اِسی نیت کو ایک ہی جملے میں پوری زندگی پر پھیلا دیا ہے:

”فرما دیجیے، بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“

قرآن، سورۃ الانعام ۶:۱۶۲ · مفہوم

غور کیجیے، یہاں صرف نماز اور قربانی کا ذکر نہیں، “میرا جینا” بھی اللہ کے لیے کہا گیا ہے۔ اور کام کاج آپ کے جینے ہی کا حصہ ہے۔ صبح گھر سے نکلتے وقت دل میں یہ طے ہو جائے کہ یہ ساری بھاگ دوڑ بھی رب کے لیے ہے، تو قدم روزی کے راستے پر بھی اٹھتے ہیں اور عبادت کے راستے پر بھی۔

اور جو محنت اِس نیت سے ہو، اُس کے بارے میں حضور ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

”تم جو بھی خرچ کرو گے جس سے تم اللہ کی رضا چاہتے ہو، اُس پر تمہیں اجر ملے گا، یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھتے ہو۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۵۶) · مفہوم

محبت سے بیوی کے منہ میں رکھا ہوا ایک لقمہ بھی اجر کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ تو پھر وہ گھنٹے، وہ ساری مشقت جس سے یہ لقمے میسر آتے ہیں، رائیگاں کیسے جائے گی۔ ہمارے سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کا سبق بھی یہی ہے کہ ہاتھ دنیا کے کام میں رہیں اور دل اللہ کے ساتھ، پھر بازار اور دفتر بھی ذکر کی جگہ بن جاتے ہیں۔

ایک چھوٹا قدم: کل صبح گھر سے نکلتے وقت ایک لمحہ رک کر دل میں یہ نیت باندھ لیجیے، “یا اللہ، یہ محنت تیری رضا کے لیے اور اپنے اہل و عیال کی حلال کفالت کے لیے ہے”، پھر سارا دن اسی احساس کے ساتھ کام کیجیے۔

Share this with someoneیہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
WhatsAppواٹس ایپ Facebookفیس بک Xایکس Telegramٹیلیگرام

A word before you act on this

These answers are offered for general reflection and encouragement. They are not a fatwa, and not a ruling for your own situation. Halal and haram, worship, marriage, divorce, inheritance and wealth turn on details only a Mufti can weigh once he has heard your circumstances in full, so please take such matters to your nearest Dar ul Iftaa.

Nothing here is medical, psychological, legal or financial advice. Where your health, your safety or your livelihood is involved, please also ask a qualified professional, and if anyone is in danger, seek help at once.

Verses and narrations are given as a rendering of the meaning together with the reference, so you can look them up yourself. A translation is not itself scripture. Every reference has been checked with care, yet human effort remains human. If you find a mistake, tell us and we will correct it.

May Allah accept what is correct here, and forgive what is mistaken.

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔