دل کے سوال

میرے بوڑھے والدین چڑچڑے، بھلکڑ اور تنگ مزاج ہو گئے ہیں، اور سچ کہوں تو میں ان پر صبر کھو بیٹھتا ہوں۔ جب ان کی خدمت اتنی مشکل ہو تو میں حقیقی نرمی کہاں سے لاؤں؟

Borhay walidain ki khidmat mein sabar

بڑھاپے میں والدین کی خدمت کرتے ہوئے صبر کا جواب دے جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ محبت باقی نہیں رہی۔ یہ تھکن ہے، اور تھکن گناہ نہیں۔ سوال بھی آپ نے وہی کیا ہے جو اصل ہے، یعنی زبردستی دانت پیس کر خاموش رہنے کے بجائے دل سے نرمی کہاں سے آئے۔ اس کا جواب قرآن اور حدیث میں کھلا رکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم رکھ دیا، اور پھر ٹھیک وہی گھڑی بیان کر دی جس سے آپ گزر رہے ہیں:

”اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو، اور ان سے عزت کی بات کہو۔ اور ان کے سامنے رحمت سے نرمی کے ساتھ عاجزی کے بازو جھکا دو، اور کہو، اے میرے رب، ان پر رحم فرما جیسا انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔“

قرآن، سورۃ الاسراء ۱۷:۲۳-۲۴ · مفہوم

غور کیجیے، اللہ نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ بڑھاپے کی خدمت آسان ہے۔ اُف زبان تک آتی ہے، یہ اسے معلوم ہے، اسی لیے حکم دیا کہ اسے روک لو۔ اور روکنے کا طریقہ یہ نہیں کہ آدمی زور لگا کر چپ ہو جائے، بلکہ یہ کہ یاد رکھے۔ یہ بھول اور یہ چڑچڑاہٹ ان کا انتخاب نہیں، برسوں کی کمزوری ہے جو اُس جسم پر اتر آئی ہے جو کبھی آپ کو اٹھا کر چلتا تھا۔ بوڑھوں کی خدمت کرنے والوں کا تجربہ عام طور پر یہی ہے کہ جس دن یہ مشکل جان بوجھ کر دی گئی تکلیف کے بجائے عمر کی کمزوری دکھائی دینے لگتی ہے، اسی دن نرمی خود ہی لوٹ آتی ہے۔

پھر قرآن نے وہ قرض یاد دلایا جس کا حساب کسی بہی کھاتے میں نہیں لکھا جا سکتا:

”اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی، اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری سہتے ہوئے پیٹ میں اٹھائے رکھا۔“

قرآن، سورۃ لقمان ۳۱:۱۴ · مفہوم

جو آج بات بھول جاتی ہیں، انہوں نے کبھی آپ کی خاطر اپنا آرام بھلا دیا تھا، کمزوری پر کمزوری سہہ کر۔ اور جو آج ذرا سی بات پر بگڑ جاتے ہیں، انہوں نے کبھی آپ کی نیند کے لیے اپنی نیند کاٹی تھی۔ صبر کم پڑنے لگے تو یہی یاد اسے پھر بھر دیتی ہے۔ اور ساتھ ہی اللہ نے دعا بھی سکھا دی، “رَبِّ ارْحَمْهُمَا”۔ جو نرمی اپنے بس میں نہ ہو، وہ مانگ لینی چاہیے۔

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات ڈرانے کے لیے نہیں، دروازہ کھولنے کے لیے ہے:

”رسوا ہو، پھر رسوا ہو، پھر رسوا ہو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، کون؟ فرمایا: جس نے اپنے والدین کو، دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور پھر جنت میں داخل نہ ہوا۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۵۱b) · مفہوم

جنت اسی گھر میں، انہی مشکل دنوں میں، ہاتھ کی پہنچ پر رکھ دی گئی ہے۔ آپ کے سامنے جو بوڑھے والدین ہیں، وہ اللہ تک پہنچنے کے راستے میں رکاوٹ نہیں، وہی راستہ ہیں۔ لوگ جنت کی تلاش میں دور دور نکلتے ہیں، اور یہاں وہ آنگن میں بیٹھی ہے۔ ہر وہ سانس جو آپ ضبط کر لیتے ہیں، ہر وہ بات جو آپ شکایت کے بغیر دوبارہ سمجھا دیتے ہیں، ہر نرم لفظ جو ایسے ذہن کو دیا جاتا ہے جو اسے سنبھال نہیں سکتا، جنت کی طرف ایک قدم ہے۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی بار جب بےصبری اٹھے تو جواب دینے سے پہلے ذرا رکیے اور دل ہی دل میں یہ دعا پڑھ لیجیے، “رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا”، اے میرے رب، ان پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔