My old parents have become difficult, forgetful and short-tempered, and honestly I lose my patience with them. How do I find real tenderness when caring for them is so hard?میرے بوڑھے والدین چڑچڑے، بھلکڑ اور تنگ مزاج ہو گئے ہیں، اور سچ کہوں تو میں ان پر صبر کھو بیٹھتا ہوں۔ جب ان کی خدمت اتنی مشکل ہو تو میں حقیقی نرمی کہاں سے لاؤں؟
Losing your patience with an ageing parent does not mean your love has failed. It means you are tired, and tiredness is not a sin. What you are asking for, real tenderness rather than gritted teeth, is exactly what Allah teaches a person in this stage of life, and He teaches it slowly, day by day.
He joined the command of His own worship to the honouring of parents, and then described the very moment you are living:
“And say not to them a word of contempt, but lower to them the wing of humility out of mercy, and say: My Lord, have mercy upon them as they raised me when I was small.”
Qur’an, Al-Isra 17:23-24 · meaning
Notice that Allah does not pretend the old age of a parent is easy. He mentions the sharp word rising to the lips, and then asks you to hold it back, not by clenching your teeth but by remembering. The forgetfulness and the short temper are not your parent choosing to wound you. They are the frailty of many years settling on a body that once carried you. Those who care for the elderly usually find the same thing: the moment the difficulty stops looking like a deliberate provocation and starts looking like the weakness of age, their own warmth returns almost on its own.
The Qur’an also reminds you of a debt that no ledger could tally:
“And We enjoined upon man goodness to his parents; his mother carried him in weakness upon weakness.”
Qur’an, Luqman 31:14 · meaning
She who is now forgetful once forgot her own comfort for your sake, weakness upon weakness, and he who is now short of temper once shortened his own rest so that you might sleep. When patience runs thin, this memory refills the cup.
And the Prophet’s warning, peace be upon him, is an open door rather than a closed one:
“May he be humbled, may he be humbled, may he be humbled. It was said: Who, O Messenger of Allah? He said: The one who finds his parents in old age, one or both of them, and does not enter Paradise.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih Muslim (2551b) · meaning
He is placing Paradise within arm’s reach, in your own home, in these very hard days. The difficult parent in front of you is not an obstacle on the road to Allah. He or she is the road. Every swallowed sigh, every answer repeated without complaint, every soft word given to a mind that can no longer hold it, is a step walked toward the Garden.
One small step: The next time impatience rises, pause and quietly say in your heart, “Rabbi arhamhuma kama rabbayani” – My Lord, have mercy on them as they raised me – before you speak your reply.
بڑھاپے میں والدین کی خدمت کرتے ہوئے صبر کا جواب دے جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ محبت باقی نہیں رہی۔ یہ تھکن ہے، اور تھکن گناہ نہیں۔ سوال بھی آپ نے وہی کیا ہے جو اصل ہے، یعنی زبردستی دانت پیس کر خاموش رہنے کے بجائے دل سے نرمی کہاں سے آئے۔ اس کا جواب قرآن اور حدیث میں کھلا رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم رکھ دیا، اور پھر ٹھیک وہی گھڑی بیان کر دی جس سے آپ گزر رہے ہیں:
”اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو، اور ان سے عزت کی بات کہو۔ اور ان کے سامنے رحمت سے نرمی کے ساتھ عاجزی کے بازو جھکا دو، اور کہو، اے میرے رب، ان پر رحم فرما جیسا انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔“
قرآن، سورۃ الاسراء ۱۷:۲۳-۲۴ · مفہوم
غور کیجیے، اللہ نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ بڑھاپے کی خدمت آسان ہے۔ اُف زبان تک آتی ہے، یہ اسے معلوم ہے، اسی لیے حکم دیا کہ اسے روک لو۔ اور روکنے کا طریقہ یہ نہیں کہ آدمی زور لگا کر چپ ہو جائے، بلکہ یہ کہ یاد رکھے۔ یہ بھول اور یہ چڑچڑاہٹ ان کا انتخاب نہیں، برسوں کی کمزوری ہے جو اُس جسم پر اتر آئی ہے جو کبھی آپ کو اٹھا کر چلتا تھا۔ بوڑھوں کی خدمت کرنے والوں کا تجربہ عام طور پر یہی ہے کہ جس دن یہ مشکل جان بوجھ کر دی گئی تکلیف کے بجائے عمر کی کمزوری دکھائی دینے لگتی ہے، اسی دن نرمی خود ہی لوٹ آتی ہے۔
پھر قرآن نے وہ قرض یاد دلایا جس کا حساب کسی بہی کھاتے میں نہیں لکھا جا سکتا:
”اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی، اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری سہتے ہوئے پیٹ میں اٹھائے رکھا۔“
قرآن، سورۃ لقمان ۳۱:۱۴ · مفہوم
جو آج بات بھول جاتی ہیں، انہوں نے کبھی آپ کی خاطر اپنا آرام بھلا دیا تھا، کمزوری پر کمزوری سہہ کر۔ اور جو آج ذرا سی بات پر بگڑ جاتے ہیں، انہوں نے کبھی آپ کی نیند کے لیے اپنی نیند کاٹی تھی۔ صبر کم پڑنے لگے تو یہی یاد اسے پھر بھر دیتی ہے۔ اور ساتھ ہی اللہ نے دعا بھی سکھا دی، “رَبِّ ارْحَمْهُمَا”۔ جو نرمی اپنے بس میں نہ ہو، وہ مانگ لینی چاہیے۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات ڈرانے کے لیے نہیں، دروازہ کھولنے کے لیے ہے:
”رسوا ہو، پھر رسوا ہو، پھر رسوا ہو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، کون؟ فرمایا: جس نے اپنے والدین کو، دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور پھر جنت میں داخل نہ ہوا۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۵۱b) · مفہوم
جنت اسی گھر میں، انہی مشکل دنوں میں، ہاتھ کی پہنچ پر رکھ دی گئی ہے۔ آپ کے سامنے جو بوڑھے والدین ہیں، وہ اللہ تک پہنچنے کے راستے میں رکاوٹ نہیں، وہی راستہ ہیں۔ لوگ جنت کی تلاش میں دور دور نکلتے ہیں، اور یہاں وہ آنگن میں بیٹھی ہے۔ ہر وہ سانس جو آپ ضبط کر لیتے ہیں، ہر وہ بات جو آپ شکایت کے بغیر دوبارہ سمجھا دیتے ہیں، ہر نرم لفظ جو ایسے ذہن کو دیا جاتا ہے جو اسے سنبھال نہیں سکتا، جنت کی طرف ایک قدم ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اگلی بار جب بےصبری اٹھے تو جواب دینے سے پہلے ذرا رکیے اور دل ہی دل میں یہ دعا پڑھ لیجیے، “رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا”، اے میرے رب، ان پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔
