دل کے سوال

دل کی گہرائی میں مجھے ڈر ہے کہ اگر میں اپنے رزق کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دوں تو میرا رزق کہیں کم نہ ہو جائے۔ کیا محنت کے بجائے اُس پر بھروسہ کرنا سادہ لوحی ہے؟

Rizq ka dar aur Allah par bharosa

یہ اندیشہ صرف آپ کو نہیں ہوتا۔ محنت کرنے والا ہر شخص کبھی نہ کبھی اِسی وہم سے گزرتا ہے کہ ہاتھ ذرا ڈھیلا چھوڑا تو رزق رُک جائے گا۔ بات دراصل اِس کے برعکس ہے۔ توکل کا مطلب محنت چھوڑنا نہیں، محنت کرتے ہوئے دل کو مالک کے سہارے پر ٹکا دینا ہے۔

توکل اور محنت ایک دوسرے کے مخالف نہیں، دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ آقا ﷺ نے یہی بات پرندے کی مثال سے سمجھائی ہے۔

”اگر تم اللہ پر ایسا بھروسہ کرو جیسا اُس پر بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اُسی طرح رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے، جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتے ہیں۔“

نبی کریم ﷺ، سنن ترمذی (۲۳۴۴) · مفہوم

اِس مثال پر ذرا ٹھہر کر غور کیجیے، آپ کے سوال کا پورا جواب اِسی میں رکھا ہوا ہے۔ پرندہ گھونسلے میں بیٹھا دانے کا انتظار نہیں کرتا۔ وہ صبح نکلتا ہے، دن بھر اُڑتا ہے، ڈھونڈتا ہے۔ توکل کبھی محنت کی ضد نہیں تھا۔ پرندہ اُڑنا نہیں چھوڑتا، وہ صرف فکر ساتھ نہیں لے جاتا۔ اُس کے پر حرکت میں رہتے ہیں اور دل مطمئن رہتا ہے، اِس یقین پر کہ جس نے پیدا کیا ہے وہی کھلائے گا۔ یہی توازن مطلوب ہے، ہاتھ پورا مصروف، دل پورا مطمئن۔

اِس لیے اللہ پر بھروسہ سادہ لوحی نہیں، سب سے سمجھ دار روش ہے، کیونکہ اِس کی بنیاد اُس ذات کے وعدے پر ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔

”اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اُس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے، اور اُسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اُس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اُسے کافی ہے۔“

قرآن، سورۃ الطلاق ۶۵:۲-۳ · مفہوم

دیکھیے، رزق کا وعدہ وہاں سے کیا گیا ہے جہاں کا گمان بھی نہ ہو۔ آپ کا اندیشہ یہ سمجھتا ہے کہ رزق صرف اُسی ایک راستے سے آتا ہے جو آپ کو دکھائی دے رہا ہے، یعنی آپ کی محنت، اور راستہ ذرا سست ہوا تو پانی بند ہو جائے گا۔ مگر دینے والے کے پاس ہزار راستے ہیں جو آپ کو نظر نہیں آتے۔ آپ کی کوشش ایک دروازہ ہے، گھر سارا اُسی کا ہے۔ اور حصہ تو پیدا ہونے سے پہلے ہی لکھ دیا گیا، اور یہ ضمانت کسی ایک انسان کے لیے نہیں، ہر جاندار کے لیے ہے۔

”اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔“

قرآن، سورۃ ھود ۱۱:۶ · مفہوم

سو محنت کیجیے، پوری صلاحیت اور پورے زور کے ساتھ، پرندہ بھی خوب پر مارتا ہے۔ لیکن دن ڈھلے فکر کو دروازے پر رکھ دیجیے اور دل اُس کے سہارے پر چھوڑ دیجیے۔ آپ بھی وہی دیکھیں گے جو آپ سے پہلے بہت سوں نے دیکھا، کہ بھروسہ رکھنے والا محنتی کم کمانے والا نہیں ہوتا، وہ چین کی نیند سونے والا ہوتا ہے۔

ایک چھوٹا قدم: آج جب کام پر نکلیں تو دل میں یہ نیت باندھ لیجیے کہ اسباب میں محنت میری، اور نتیجہ اللہ کے سپرد، اور دن میں ایک بار خلوصِ دل سے “حَسۡبُنَا اللّٰهُ وَنِعۡمَ الۡوَکِیۡلُ” پڑھ لیجیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔