لوگ جو چیزیں مجھے ادھار دیتے ہیں اور چھوٹے قرض، میں انہیں لوٹانے کا ارادہ تو رکھتا ہوں مگر مہینوں بھول جاتا ہوں۔ کیا دین میں یہ واقعی کوئی بڑی بات ہے؟
Udhaar aur qarz waapas karna
پہلی بات یہ ہے کہ یہ دین کا کوئی حاشیہ نہیں، بنیادی معاملات میں سے ہے۔ کسی کی چیز واپس کرنا اور قرض چکانا انہی کاموں میں ہے جن پر شریعت نے خاص زور دیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ بھول جانا اور خیانت کرنا دو الگ چیزیں ہیں، اور آپ کا معاملہ پہلی قسم کا ہے۔
کسی سے کتاب مانگ کر لے آنا، دوست سے تھوڑی رقم لے لینا، کسی کا اوزار چند دن کے لیے رکھ لینا، یہ سب دین کی زبان میں “امانت” ہے۔ اور امانت لوٹانے کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کر کے دیا ہے:
”بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُن کے حق داروں تک پہنچا دو۔“
قرآن، سورۃ النساء ۴:۵۸ · مفہوم
یعنی رقم چھوٹی ہو یا بڑی، چیز معمولی ہو یا قیمتی، لوٹاتے وقت آپ صرف حساب برابر نہیں کر رہے، ایک حکم بجا لا رہے ہیں۔ دوسری جانب نبی کریم ﷺ نے خیانت کے بارے میں دو ٹوک بات فرما دی:
”منافق کی نشانیاں تین ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو توڑ دے، اور جب اُس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۳۳ / مسلم ۵۹a) · مفہوم
اِس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات اُس شخص کے بارے میں ہے جو جان بوجھ کر کسی کا حق دبا لے، نہ کہ اُس کے بارے میں جس کا ارادہ لوٹانے ہی کا ہے مگر مصروفیت میں بات ذہن سے اُتر جاتی ہے۔ آپ کے ہاں نیت موجود ہے، کمی عمل کی ترتیب میں ہے، اور یہ عادت کا مسئلہ ہے، مزاج کا نہیں۔ بےتکلفی میں لیا ہوا ادھار کہیں لکھا نہیں جاتا، اِسی لیے یاد بھی نہیں رہتا۔ البتہ ایک بات پیشِ نظر رہے کہ ایسی چھوٹی چھوٹی نہ لوٹائی گئی چیزیں تعلق کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتی رہتی ہیں، اور وجہ یہی ہوتی ہے کہ بات اِتنی معمولی ہے کہ کوئی زبان پر نہیں لاتا۔ قرآن نے علاج ایک مختصر جملے میں بتا دیا:
”پس جسے امانت سونپی گئی وہ اپنی امانت ادا کر دے اور اللہ سے ڈرتا رہے جو اُس کا رب ہے۔“
قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۲۸۳ · مفہوم
نہ سرزنش، نہ لمبی تنبیہ، صرف راستہ۔ امانت ادا کر دیں، چیز واپس کر دیں، دل کا بوجھ بھی اُتر جائے گا اور سامنے والے کے ساتھ تعلق پہلے سے صاف ہو جائے گا۔ عادت بدلنا مشکل کام نہیں، بس یاد رکھنے کا کوئی سہارا بنا لینا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج موبائل میں ایک مختصر فہرست بنا لیں کہ کس سے کیا لیا ہوا ہے اور کتنا دینا ہے، اور ہفتے کا ایک دن مقرر کر لیں جب اُس فہرست پر نظر ڈال کر ایک امانت ادا کر دیں۔
