دل کے سوال

اگر اللہ سب گناہ اتنی آسانی سے معاف کر دیتا ہے تو کیا اس سے گناہ کی سنگینی کم نہیں ہو جاتی؟ پھر میں اس سے ڈروں ہی کیوں؟

Aasan maafi aur gunah ka khauf

بات یہ ہے کہ اللہ کی مغفرت اُس کی کمزوری کی نہیں، اُس کے غنی اور بےنیاز ہونے کی دلیل ہے۔ معاف کرنے سے اُس کی شان میں کوئی کمی نہیں آتی، اِسی لیے وہ کھلے دل سے معاف کرتا ہے۔ اور گناہ کی سنگینی معافی کے آسان ہونے سے کم نہیں ہو جاتی، جتنا بھاری بوجھ اُٹھایا جائے، اُٹھانے والے کی قوت اُتنی ہی کھل کر سامنے آتی ہے۔

پھر دیکھیے، اللہ نے اپنی رحمت اور اپنی گرفت، دونوں کو ایک ہی سانس میں بیان فرمایا، تاکہ بندے کا دل نہ بےخوف ہو اور نہ مایوس:

”میرے بندوں کو خبر دے دو کہ بےشک میں ہی بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہوں، اور یہ بھی کہ میرا عذاب، وہی دردناک عذاب ہے۔“

قرآن، سورۃ الحِجر ۱۵:۴۹-۵۰ · مفہوم

اُس نے یہ دونوں باتیں الگ الگ نہیں کیں۔ اُمید بھی وہی دیتا ہے اور اپنے عذاب کی سنگینی بھی وہی یاد دلاتا ہے۔ تو اِس سوال کا جواب کہ “پھر ڈروں ہی کیوں؟”، یہی ہے کہ ڈر اور اُمید ایک دوسرے کے مخالف نہیں، ایک ہی پرندے کے دو پَر ہیں۔ اہلِ علم مومن کے حال پر غور کرتے ہوئے ایک جامع بات کہتے ہیں، کہ بندہ اپنے رب کی عبادت خوف اور اُمید کے درمیان رہ کر کرتا ہے، اور بہتر یہی ہے کہ دونوں توازن میں رہیں، ایک دوسرے پر غالب نہ آئیں۔ یہ علماء کی حکمت کے طور پر بیان ہوتی ہے، کسی مستند ترین کتاب کی صریح روایت کے طور پر نہیں، مگر اِس کا مفہوم درست ہے۔

بزرگوں نے اِن دونوں کو پرندے کے دو پروں سے تشبیہ دی ہے۔ ایک ہی پَر پر پرندہ اُڑ نہیں سکتا، زمین پر آ گرتا ہے۔ جو صرف اُمید ہی اُمید میں رہے، وہ لاپروائی میں جا پڑتا ہے، اور جو صرف خوف میں ڈوبا رہے، وہ مایوسی کے اندھیرے میں بیٹھ جاتا ہے۔ پرواز تب ہوتی ہے جب دونوں پَر برابر چلیں، اُس کی رحمت پر اتنا بھروسہ کہ دل کبھی نااُمید نہ ہو، اور اُس کی عظمت کا اتنا لحاظ کہ گناہ کبھی ہلکا نہ لگے۔ اِسی توازن سے آدمی اُس سے ڈرتا بھی ہے اور اُسی کی طرف دوڑتا بھی ہے، جیسے بچہ اپنے والد سے جھجکتا بھی ہے اور اُسی کی گود میں پناہ بھی لیتا ہے۔

ایک چھوٹا قدم: آج ایک بار دونوں پَر ایک ساتھ کھولیے، ایک لمحہ اُس کی رحمت کا شکر ادا کیجیے کہ “یا غفور، تیری بخشش بہت وسیع ہے”، اور اُسی سانس میں ادب سے کہیے، “یا عظیم، تیری عظمت میرے دل میں قائم رکھ”۔ ڈر اور اُمید مل کر دل کو سیدھا اور مطمئن رکھتے ہیں۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔