دل کے سوال

سچ پوچھیں تو کچھ دنوں میں نماز صرف اس لیے پڑھ لیتا ہوں کہ چھوڑنے پر شرمندگی ہوگی۔ کیا وہ نماز جو محبت کے بجائے فرض سمجھ کر پڑھی جائے، اس کی کوئی قیمت ہے؟

Mohabbat ke baghair farz ki namaz

جو بات آپ نے کہی ہے، اِس میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں۔ جس دن دل میں شوق نہ ہو اور آدمی صرف اِس خیال سے مصلّے پر آ کھڑا ہو کہ کہیں اپنے رب کا حق نہ رہ جائے، یہ بھی ایک طرح کی وفا ہے۔ وقت پر حاضری دے دینا، خواہ دل خاموش ہی کیوں نہ ہو، معمولی بات نہیں۔

فرض اور محبت آمنے سامنے کی چیزیں نہیں ہیں۔ اکثر تو فرض ہی محبت کی پختہ صورت ہوتا ہے، وہ محبت جو لذت نہ ہونے پر بھی ٹھہری رہے۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ اللہ نے آپ کو آپ ہی کی ہمت کے بھروسے پر نہیں چھوڑا، نماز کو خود وہ در بنا دیا جہاں سے قوت ملتی ہے:

”اور صبر اور نماز سے مدد مانگو، اور بے شک یہ (نماز) بھاری ہے مگر اُن دل والوں پر نہیں جو (اللہ کے آگے) جھکنے والے ہیں۔“

قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۴۵ · مفہوم

غور کیجیے، آیت یہ نہیں کہتی کہ پہلے ہمت جمع کرو، پھر آنا۔ وہ تو یہ بتاتی ہے کہ مدد ملتی ہی نماز میں ہے۔ سو جن دنوں آپ محض فرض سمجھ کر آتے ہیں، اُن دنوں آپ کوئی پرانا قرض نہیں چکا رہے ہوتے، آپ اُسی ذات سے سہارا لینے آتے ہیں جس کے سامنے کھڑے ہیں۔ اور جہاں فرمایا گیا کہ یہ بوجھ اُن پر نہیں جن کے دل جھک جاتے ہیں، اُسے اپنے بارے میں کوئی فیصلہ نہ سمجھیے، یہ تو دعوت ہے۔ دل جتنا جھکنا سیکھتا جاتا ہے، قیام اُتنا ہی ہلکا ہوتا جاتا ہے۔ اور یہ جھکاؤ بھی اُسی سے مانگا جا سکتا ہے، پھر بوجھ اپنے وقت پر خود ہلکا ہو جاتا ہے۔

اصل چیز جذبے کی بلندی نہیں، لوٹ لوٹ کر آتے رہنے کی پابندی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشگی کے ساتھ کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۶۴۶۴ / مسلم ۷۸۲a) · مفہوم

جو عمل خشک دنوں میں بھی پابندی سے ہوتا رہے، وہ صرف قبول ہی نہیں ہوتا، محبوب ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے عمل کا معیار اُس کی لذت نہیں رکھی، ہمیشگی رکھی۔ تو جو نماز آپ کو سب سے زیادہ مشکل سے ادا ہوئی، وہ اُس کے ہاں سب سے کم درجے کی ہرگز نہیں۔ آپ کی یہ خاموش پابندی کسی بہتر عبادت کے انتظار میں پڑی ہوئی کم تر عبادت نہیں، یہی وہ چیز ہے جہاں تک اُس کی محبت پہنچتی ہے۔ انسانی عادتوں پر تحقیق کرنے والے بھی اِسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جن دنوں دل آمادہ نہ ہو، اُن دنوں کی حاضری ہی کسی معمول کو زندہ رکھتی ہے، یہاں تک کہ گرمی لوٹ آتی ہے۔ سو آج کی یہ بے کیف حاضری وہی پل ہے جس پر سے ایک دن محبت واپس چل کر آئے گی۔

محبت آپ سے رخصت نہیں ہوئی، سو رہی ہے۔ مصلّے کی طرف اٹھتے ہوئے آپ کے یہی قدم اُسے جگائیں گے۔ بس چلتے رہیے۔ تسلسل آپ کی طرف سے اُس کے لیے تحفہ ہے، اور لذت ایک دن اُس کی طرف سے آپ کے لیے تحفہ ہو گی۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی بار جب صرف فرض سمجھ کر نماز کے لیے کھڑے ہوں تو شروع کرنے سے پہلے آہستہ سے کہہ لیجیے، “یا اللہ، دل خاموش ہے پھر بھی حاضر ہوں، میری یہ حاضری قبول فرما لے۔” یہی ایک سچا جملہ آپ کا نذرانہ ہے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔