دل کے سوال

جب کوئی مجھے دھوکہ دے یا بے عزتی کرے تو میری فطرت سخت جواب دینے اور بدلہ لینے کی ہوتی ہے۔ کیا اچھے اخلاق کا مطلب یہ ہے کہ میں لوگوں کو خود پر چڑھنے دوں؟

Dhoka aur beizzati par badla lena

جب کوئی دھوکہ دے، یا سب کے سامنے بات سنا دے، تو اندر جو آگ بھڑکتی ہے وہ کوئی عیب نہیں۔ یہ غیرت ہے، اور غیرت ہونی بھی چاہیے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ اِس آگ کا رخ کدھر ہو۔

آپ پوچھتے ہیں کہ اچھے اخلاق کا مطلب یہی ہے کہ آدمی چپ چاپ لوگوں کو خود پر چڑھنے دے؟ نہیں۔ بے بسی اور ضبط دو الگ چیزیں ہیں۔ بے بسی یہ ہے کہ جواب دینے کی طاقت ہی نہ ہو، اور ضبط یہ ہے کہ پوری طاقت ہاتھ میں ہو، پھر بھی آدمی لگام کھینچ کر رکھے۔ بدلہ لے لینے میں کمال ہی کیا ہے، یہ تو ہر بے قابو دل کر گزرتا ہے۔ پہلوانی اُس گھڑی کی ہے جب سب کچھ بس میں ہو اور آدمی اپنے آپ کو تھام لے۔ حدیث شریف میں یہی فرق سمجھایا گیا ہے۔

”طاقتور وہ نہیں جو کُشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو پا لے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۶۱۱۴) · مفہوم

غور کیجیے، جو بھڑک اٹھتا ہے وہ طاقتور نہیں، اُسے تو غصہ اپنے پیچھے گھسیٹ رہا ہے۔ طاقتور وہ ہے جو اپنی جگہ جما رہے اور اپنے دل کا مالک رہے۔ سخت جواب پی جانا ہار نہیں، یہ اُس بڑی لڑائی کی جیت ہے جو آدمی کے اپنے سینے میں لڑی جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کی صفت بھی یہی بیان فرمائی ہے، بے بسی کی نہیں، حوصلے کی۔

”اور جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔“

قرآن، سورۃ آلِ عمران ۴۱:۳۴ · مفہوم

مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ برائی کا جواب برائی سے دینا محض حساب برابر کرنا ہے۔ کمال اِس میں ہے کہ جواب اُس سے بہتر انداز میں دیا جائے، اور ہمارے بزرگوں کا ذوق بھی یہی رہا ہے۔ قرآن میں وعدہ ہے کہ آج جس سے دشمنی ہے، وہی کل جگری دوست بن سکتا ہے، بشرطیکہ نرمی کا وہ دروازہ کھل جائے جو انتقام ہمیشہ بند رکھتا ہے۔

”برائی کو اُس بھلائی سے دور کرو جو بہترین ہو، تو ایک دم وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، ایسا ہو جائے گا جیسے گہرا دوست ہو۔“

قرآن، سورۃ فصلت ۳:۱۳۴ · مفہوم

تو یہ کمزوری نہیں۔ اپنی عزت کا تحفظ ضرور کیجیے، حق کہنے سے مت رکیے، مگر جواب آپ کے وقار کی طرف سے آئے، غصے کی طرف سے نہیں۔ ایک بات اپنے تجربے میں بھی دیکھی جا سکتی ہے · ٹھہرا ہوا جواب جھگڑے کو اکثر وہیں ٹھنڈا کر دیتا ہے جہاں تیز جواب اُسے اور بھڑکا دیتا، اور عزت جہاں تھی وہیں کھڑی رہتی ہے۔

ایک چھوٹا قدم: آج جب دل میں غصے کی لہر اٹھے تو فوراً جواب دینے کے بجائے ایک لمبا سانس لیجیے اور دل میں کہیے، “اِس گھڑی خود کو تھام لینا ہی اصل طاقت ہے”، پھر جو کہنا ہو ٹھہر کر کہیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔