خشوع اصل میں ہے کیا؟ کیا یہ آنسوؤں اور لذت کی وہ کیفیت ہے جس تک مجھے پہنچنا ہے، اور اگر وہ مجھے کبھی نصیب نہ ہو تو کیا میں ناکام ہو گیا؟
Khushu kya hai ansu aur lazzat
خشوع دراصل کوئی کیفیت نہیں، ایک رُخ ہے۔ آپ اسے آنکھوں کا بھر آنا یا سینے میں کوئی مٹھاس اترنا سمجھ رہے ہیں، اور یہ ڈر دل میں ہے کہ اگر یہ نصیب نہ ہوا تو نماز خالی ہاتھ رہ گئی۔ بات اس کے برعکس ہے۔ خشوع دل کا جھک جانا ہے، نگاہ کا نیچے آ جانا ہے، اور یہ جان لینا کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہوں۔ یہ جھکاؤ آپ کے اختیار میں ہے، اور ہر نماز میں ممکن ہے، آنکھ خشک ہو یا نم۔
اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کا تذکرہ اسی وصف سے شروع فرمایا ہے۔
”بے شک وہ ایمان والے کامیاب ہو گئے، جو اپنی نماز میں عاجزی اور خشوع اختیار کرتے ہیں۔“
قرآن، سورۃ المومنون ۲۳:۱-۲ · مفہوم
غور کیجیے، یہاں نہ آنسوؤں کا ذکر ہے، نہ کسی خاص لذت کا۔ فرمایا صرف اتنا کہ وہ اپنی نماز میں ”خاشع“ ہیں، یعنی جھکے ہوئے، حاضرِ دل۔ خشوع کوئی بجلی نہیں جو اچانک گرے، نہ آنکھ کا پانی ہے جسے ناپ کر کامیابی طے ہو۔ یہ تو دل کی ایک نرمی ہے۔ آنسو اسی نرمی کا پھول ہیں، اور پھول نہ کھلے تو اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ جڑ سوکھ گئی۔
پھر یہ بھی بتا دیا گیا کہ اس جھکاؤ کی طاقت کہاں سے مانگی جائے اور بوجھ کس چیز سے ہلکا ہوتا ہے۔
”اور صبر اور نماز سے مدد مانگو، اور بے شک یہ بھاری ہے مگر اُن عاجزی والوں پر نہیں، جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“
قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۴۵-۴۶ · مفہوم
ترتیب دیکھیے۔ پہلے راستہ بتایا کہ مدد صبر اور نماز سے مانگو، یعنی نماز محض ایک بوجھ نہیں جو ہم اٹھاتے ہیں، وہ خود ایک سہارا ہے جو ہمیں تھام لیتی ہے۔ اس کے بعد وعدہ ہے کہ یہ بھاری پن اُن دلوں پر سے اُٹھ جاتا ہے جو جھکنا سیکھ لیتے ہیں، جنہیں اپنے رب سے ملاقات کا یقین نصیب ہو جاتا ہے۔ سو اگر آج نماز چڑھائی کا راستہ محسوس ہوتی ہے تو یہ آپ کے دل پر کوئی فیصلہ نہیں، صرف سفر کا موجودہ مقام ہے۔ اور یہی ہلکا پن اُسی سے مانگنا ہے۔ آپ کا ہر بار نماز کے لیے کھڑا ہو جانا بذاتِ خود ایک دعا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے یہی بات سب سے آسان لفظوں میں کھول دی، ایسے لفظوں میں جن کا تعلق کیفیت سے نہیں، دھیان سے ہے۔
”عبادت اللہ کی ایسے کرو گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اُسے نہیں دیکھتے تو (یقین رکھو کہ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۵۰) · مفہوم
یہی خشوع کی پوری حقیقت ہے۔ اس میں دو درجے رکھ دیے گئے ہیں اور دونوں قبول ہیں۔ ایک وہ جسے یہ محسوس ہو جیسے وہ اپنے رب کو دیکھ رہا ہو، اور دوسرا وہ جس تک یہ کیفیت نہ پہنچے، مگر اتنا یاد رہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ دوسرا درجہ ہر ایک کی پہنچ میں ہے، اور اسی لیے رکھا گیا ہے کہ کوئی طالب محروم نہ رہے۔
سو یہ ڈر دل سے نکال دیجیے کہ لذت نہ ملی تو نماز رائیگاں گئی۔ لذت اور آنسو مہمان ہیں، آج نہیں تو کل آ جائیں گے۔ آپ کا کام حاضری ہے، اور حاضری آپ دے رہے ہیں۔ دل کا دنیا کے شور میں بٹے رہنا پرانی عادت ہے، اور عادت ایک دن میں نہیں ٹھہرتی، آہستہ آہستہ ٹھہرتی ہے۔ آپ نرمی کا بیج بوتے رہیے اور پانی دیتے رہیے، پھول کھلانا مالی کا کام ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج صرف ایک نماز میں، تکبیرِ تحریمہ کہنے سے پہلے ایک لمحہ رُک کر دل میں یہ جملہ دہرائیے: ”میرا رب اِس وقت مجھے دیکھ رہا ہے۔“ بس اتنا ہی، پھر اطمینان سے نماز شروع کر دیجیے۔
