میرا ایک مصروف کیریئر ہے، بل ہیں، بچے ہیں، اور ایک فون جو کبھی خاموش نہیں ہوتا۔ کیا باطنی روحانی راستہ حقیقت میں مجھ جیسے کسی کے لیے ہے، یا کچھ پانے کے لیے مجھے جدید دنیا کو ہی چھوڑنا پڑے گا؟
Masroof zindagi mein rohani raasta
جواب مختصر ہے، آپ سے کچھ چھوڑنے کو نہیں کہا جا رہا۔ یہ خیال کہ باطن کا راستہ صرف اُن لوگوں کا ہے جو دنیا چھوڑ بیٹھے ہیں، ایک عام غلط فہمی ہے۔ روحانیت کا مطلب نہ کوئی غار ہے، نہ جنگل، نہ رشتوں سے کنارہ کشی۔ ہماری نقشبندی راہ تو اِسی لیے آئی کہ بندہ بازار میں رہے، گھر بسائے، روزی کمائے، بچے پالے، اور اِسی سب کے درمیان اللہ تک پہنچ جائے۔ اکابر فرماتے ہیں کہ مرتبہ اُس کا بلند ہے جو ظاہر میں خلق کے ساتھ ہو اور باطن میں حق کے ساتھ۔
آپ کا کیریئر، آپ کے بل، آپ کے بچے، یہ رکاوٹیں نہیں، امانتیں ہیں، اور اِنہی کے ذریعے آخرت کی کمائی ہوتی ہے۔ قرآن نے کہیں یہ نہیں کہا کہ دنیا چھوڑ دو، بلکہ یہ کہا کہ اِسی دنیا کو سیڑھی بنا لو۔
”اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اُس سے آخرت کا گھر تلاش کر، اور دنیا میں سے اپنا حصہ بھی نہ بھول۔“
قرآن، سورۃ القصص ۲۸:۷۷ · مفہوم
الفاظ کی ترتیب پر غور کیجیے۔ آخرت اُسی چیز کے ذریعے تلاش کرنے کا حکم ہے جو اللہ نے یہاں عطا کی ہے، اُسے پھینک دینے سے نہیں۔ آپ کی کمائی، آپ کا ہنر، رات گئے تھکے ہوئے بچے کے ساتھ آپ کا صبر، سودے میں آپ کی دیانت، نیت درست ہو تو یہ سب عبادت میں شامل ہو جاتا ہے۔ دنیا کشتی ہے اور آخرت کنارہ، اور سمجھ دار مسافر اُس کشتی کو برا نہیں کہتا جو اُسے گھر پہنچا رہی ہے۔ وہ فون جو کبھی خاموش نہیں ہوتا، وہ بھی حجاب اُسی وقت بنتا ہے جب دل کو غافل کر دے، ورنہ اِسی مصروفیت کے وقفوں میں چند لمحے یاد کے نکال لیں تو وہی لمحے روشنی بن جاتے ہیں۔
صحابہ کرام میں تاجر بھی تھے، کسان بھی، اور گھر بار والے بھی۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کے فوراً بعد اُنہیں بازار کی طرف بھیجا، مگر ساتھ ہی دل کو تھامے رکھنے کا حکم بھی دیا۔
”پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔“
قرآن، سورۃ الجمعہ ۶۲:۱۰ · مفہوم
آخری ٹکڑے کو دیکھیے، اللہ کو کثرت سے یاد کرنے کا حکم عین کام کے وقت آیا ہے، زمین میں پھیل جانے کے ذکر کے ساتھ۔ آپ کے سوال کا پورا جواب یہی ہے۔ زمین چھوڑنے کو نہیں کہا گیا، یاد کو ساتھ لے کر چلنے کو کہا گیا ہے۔ نقشبندی راہ کا سارا ہنر بھی یہی سکھایا گیا کہ ہاتھ سودے میں لگے رہیں اور دل اپنے مالک کے پاس ٹھہرا رہے، دن بھر لین دین ہوتا رہے اور یاد کا دھاگا ایک لمحے کو بھی ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ آج کا مصروف پیشہ ور آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ دنیا میں بہت زیادہ دھنس چکا ہے، اِس لیے اِس راستے کا اہل نہیں، حالانکہ قرآن کا انداز بتاتا ہے کہ حلال محنت اور اللہ کی یاد ایک ہی دل میں رہنے کے لیے بنی ہیں۔
یہ راستہ خالی ہاتھوں کے لیے نہیں، بھرے ہاتھوں کے لیے بنا ہے۔ آپ کی مصروف زندگی نااہلی کی دلیل نہیں، یہی آپ کا مصلیٰ ہے، میٹنگوں، بچوں کے سکول کے چکروں اور رات کے خاموش لمحوں پر بچھا ہوا۔ آپ جہاں کھڑے ہیں، وہیں سے چل پڑ سکتے ہیں۔
ایک چھوٹا قدم: کل جب فون اٹھانے لگیں، اُس سے پہلے صرف ایک لمحہ رک کر دل میں کہیے ”یا اللہ، یہ سب تیرا دیا ہے، تیری رضا کے لیے”، اور پھر اپنے کام میں لوٹ جائیے۔
