دل کے سوال

توبہ کو 'سچی' کیا چیز بناتی ہے؟ میں استغفار کے الفاظ تو ہر وقت کہتا رہتا ہوں مگر اندر سے کچھ بدلتا محسوس نہیں ہوتا۔

Sachi tauba kya hoti hai

زبان پر استغفار جاری ہے اور اندر کچھ ہلتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ اس بات کو ذرا ٹھہر کر دیکھنا چاہیے، کیونکہ توبہ کی جان الفاظ میں نہیں، دل کی ایک کروٹ میں ہے۔ اور یہ کروٹ آقا ﷺ نے بہت مختصر لفظوں میں کھول دی،

”ندامت (دل کا سچا پچھتاوا) ہی تو توبہ ہے۔“

نبی کریم ﷺ، سنن ابن ماجہ و مسند احمد (۴۲۵۲) · مفہوم

یعنی توبہ کی اصل یہی ندامت ہے، دل کی وہ خلش کہ کاش یہ نہ ہوا ہوتا، اور پھر دل کے رخ کا آہستہ سے اپنے رب کی طرف پھر جانا۔ زبان کے الفاظ اس بیج کو پانی دینے کے برابر ہیں، بیج خود دل کی یہی ندامت ہے۔ قرآن میں بھی حکم محض الفاظ دہرانے کا نہیں، ایک خاص کیفیت کے ساتھ لوٹنے کا ہے،

”اے ایمان والو، اللہ کی طرف سچی اور کھری توبہ کے ساتھ لوٹ آؤ۔“

قرآن، سورۃ التحریم ۶۶:۸ · مفہوم

“نصوح” کا مادہ خالص ہونے کے معنی بھی رکھتا ہے اور اس سلائی کے بھی جس سے پھٹا کپڑا رفو ہو کر دوبارہ جڑ جاتا ہے۔ سچی توبہ وہی ہے جو ٹوٹے ہوئے تعلق کو ٹانکا ٹانکا پھر سیتی چلی جائے، اس نیت کے ساتھ کہ اب یہ سیون کھلنے نہ پائے۔

اگر زبان چل رہی ہو اور دل کہیں اور ہو تو یہ دروازہ کھٹکھٹا کر خود ہی پلٹ جانے کی صورت ہے۔ اس لیے یہ انتظار نہ کیجیے کہ پہلے اندر کوئی بڑی تبدیلی محسوس ہو، تب لوٹیں گے۔ لوٹنا، اور بار بار لوٹنا، خود وہی عمل ہے جو آدمی کو آہستہ آہستہ بدل دیتا ہے۔ نقشبندی مجددی راہ میں اسی کو دل کی حضوری کہا جاتا ہے، کہ الفاظ زبان پر ہوں اور دھیان اپنے رب کی طرف حاضر رہے۔

تو اپنی توبہ کو اس سے نہ ناپیے کہ کیفیت کتنے زور کی آئی، بلکہ اس سے کہ دل میں سچی خلش تھی یا نہیں، اور قدم کس طرف اٹھ رہے ہیں۔ تبدیلی عام طور پر بجلی کی طرح نہیں آتی، صبح کی روشنی کی طرح آتی ہے، پھیلتی جاتی ہے اور پتا اُس وقت چلتا ہے جب کمرہ روشن ہو چکا ہوتا ہے۔

ایک چھوٹا قدم: آج استغفار کہنے سے پہلے ایک لمحہ رک جائیے، کسی ایک بات پر دل میں سچی ندامت محسوس کیجیے، پھر ٹھہر ٹھہر کر، معنی سمجھتے ہوئے وہ الفاظ کہیے، بس ایک بار۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔