میں نے سنا ہے کہ نماز ایک ملاقات ہے، ایک معراج ہے، اللہ سے گفتگو ہے۔ مگر میری نماز خاموشی میں ایک طرفہ بات چیت سی لگتی ہے۔ میں یہ کیسے محسوس کروں کہ واقعی میری سنی جا رہی ہے؟
Namaz Allah se guftagu kaise
جو کمی آپ کو محسوس ہو رہی ہے، یہ اس بات کی علامت نہیں کہ آپ سے کچھ بگڑ گیا ہے۔ یہ اس آدمی کی بے چینی ہے جو جواب کی توقع رکھتا ہے۔ اور جواب موجود ہے۔ آپ کی نماز کبھی یک طرفہ بات نہیں تھی، بس یہ بتایا نہیں گیا تھا کہ اس گفتگو میں اللہ کا حصہ کہاں رکھا ہوا ہے۔
اپنی قربت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خود ان لفظوں میں فرمایا ہے:
”اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں تو قریب ہی ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔“
قرآن، سورۃ البقرہ ۲:۱۸۶ · مفہوم
یہاں کوئی شرط نہیں لگائی گئی، نہ علم کی، نہ مرتبے کی۔ جو پکارے، اللہ اس کے قریب ہے۔ اور نماز میں تو یہ قربت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ سورۃ فاتحہ، جو ہر رکعت میں آپ کی زبان پر ہوتی ہے، دراصل آمنے سامنے کی بات چیت ہے۔ حضور ﷺ نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
”میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جو وہ مانگے۔“
حدیثِ قدسی، صحیح مسلم (۳۹۵a) · مفہوم
اسی حدیث میں آگے وہ منظر آتا ہے جو آپ کے سوال کا اصل جواب ہے۔ بندہ کہتا ہے کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے، تو اللہ فرماتا ہے، میرے بندے نے میری حمد کی۔ بندہ رحمان اور رحیم کہتا ہے، تو فرماتا ہے، میرے بندے نے میری ثنا کی۔ بندہ روزِ جزا کے مالک کا ذکر کرتا ہے، تو فرماتا ہے، میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ اور جب بندہ کہتا ہے:
”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔“
قرآن، سورۃ الفاتحہ ۵ · ۱:۲ · مفہوم
تو جواب ملتا ہے، یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، اور میرے بندے کو وہی ملے گا جو اس نے مانگا۔ جس خاموشی کو آپ خالی سمجھ رہے تھے، اسی میں نماز کا دوسرا آدھا حصہ رکھا ہوا ہے۔ کان وہی آواز پکڑتے ہیں جس کی عادت ڈالی جائے۔ یہ جواب یاد کر لیجیے، پھر فاتحہ کا ہر فقرہ ایک سوال بن جائے گا اور دل جواب کے لیے ٹھہرنا سیکھ لے گا۔ ہماری عادت یہ بن گئی ہے کہ ہم بولتے چلے جاتے ہیں اور سننے کے لیے رکتے نہیں۔ ذرا سا ٹھہرنا آ جائے، تو وہی قیام جو دیوار لگتا تھا، دروازہ بن جاتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اگلی نماز میں سورۃ فاتحہ کی ہر آیت کے بعد ایک سانس کے لیے ٹھہریے اور دل میں اللہ کا وہی جواب دہرائیے، تاکہ آپ اس طرح پڑھیں جیسے جواب دیا جا رہا ہے، نہ کہ تنہا کھڑے ہوں۔
