دل کے سوال

جب کوئی حقیقی مصیبت مجھے توڑ دیتی ہے تو میری نماز اچانک آنسوؤں اور حضورِ قلب سے بھر جاتی ہے، مگر جیسے ہی زندگی آسان ہوتی ہے وہ پھیکی پڑ جاتی ہے۔ کیا زندہ دل سے نماز پڑھنے کے لیے مجھے دکھ میں ہونا ضروری ہے؟

Museebat mein hi rota hoon

جو کیفیت آپ نے بیان کی ہے، وہ ایمان کی کمزوری نہیں۔ مصیبت میں نماز کا آنسوؤں سے بھر جانا اس لیے نہیں ہوتا کہ دکھ عبادت کو زیادہ مقبول بنا دیتا ہے، بلکہ اس لیے کہ دکھ ان ہزار چھوٹی چھوٹی مصروفیتوں کو ہٹا دیتا ہے جن کے پیچھے آسانی کے دنوں میں دل چھپا رہتا ہے۔ دل تو ہر وقت اپنے رب کا محتاج تھا۔ مصیبت نے صرف اتنا کیا کہ اس احتیاج کی آواز آپ کو سنائی دینے لگی۔

قرآن نے انسان کی اسی عادت کا ذکر فرمایا ہے، اور یہ ذکر تسلی کے لیے نہیں، تنبیہ کے لیے آیا ہے، اور میں اسے اس کے اصل رنگ سے بدلنا نہیں چاہتا۔

”اور جب انسان کو کوئی تکلیف چھوتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف جھکتے ہوئے پکارتا ہے، پھر جب اللہ اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کر دیتا ہے تو وہ بھول جاتا ہے کہ اس سے پہلے وہ کس کو پکار رہا تھا۔“

قرآن، سورۃ الزمر ۲:۴۵ · مفہوم

اب دیکھیے کہ یہ تنبیہ کس پر پڑتی ہے۔ اس دل پر، جو آسانی ملنے کے بعد اس دروازے سے بالکل ہٹ جاتا ہے۔ اس دل پر نہیں، جو خود بے چین ہو کر پوچھ رہا ہے کہ میری نماز کی وہ نرمی کہاں چلی گئی۔ یہی بے قراری اس بات کی گواہ ہے کہ آپ بھولنے والوں میں سے نہیں۔ اور رحمٰن کی ہر تنبیہ کے نیچے ایک دعوت بھی ہوتی ہے۔ یہاں دعوت اتنی ہی ہے کہ اس کی طرف اس وقت بھی لوٹیے جب کوئی مصیبت آپ کو لوٹنے پر مجبور نہ کر رہی ہو۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضورِ قلب کے لیے دکھ ضروری ہے۔ دکھ خشوع کا واحد راستہ نہیں، بس آسان راستہ ہے، کیونکہ اس میں اپنی بے بسی خود سامنے آ جاتی ہے۔ اصل چیز خشوع ہے، اور خشوع آسانی میں بھی کمایا جا سکتا ہے، اسے تھوڑی محنت اور تھوڑی یاد دہانی چاہیے۔

”اور صبر اور نماز سے مدد مانگو، اور بے شک یہ بھاری ہے مگر ان دل جھکانے والوں پر نہیں جو خشوع رکھتے ہیں۔“

قرآن، سورۃ البقرہ ۳۹:۸ · مفہوم

غور کیجیے، بوجھ اس لیے ہلکا نہیں ہوتا کہ آزمائش ختم ہو گئی، بلکہ اس لیے کہ دل جھک گیا۔ خشوع ایک کمائی جانے والی کیفیت ہے، اسے مصیبت کی ضرورت نہیں۔ ہمارے آقا ﷺ کی راتیں اسی کی مثال ہیں۔ ان پر کوئی مصیبت مسلط نہ تھی، پھر بھی وہ کھڑے رہتے تھے۔

”نبی کریم ﷺ رات کو اتنا (طویل) قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ عرض کیا گیا کہ اللہ نے تو آپ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دیں (پھر اتنی مشقت کیوں؟) تو آپ ﷺ نے فرمایا، کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۴۸۳۶) · مفہوم

ان کی نماز دکھ سے نہیں، شکر سے بھری ہوئی تھی۔ تو آپ کو کسی نئے زخم کا انتظار نہیں کرنا ہے۔ اللہ کے سامنے آپ کی محتاجی کوئی مہمان نہیں جو صرف طوفان میں آئے، وہ آپ کی ہر وقت کی حقیقت ہے، آسانی میں بھی اور آزمائش میں بھی۔ کرنا یہی ہے کہ آسانی کے دنوں میں وہ بات یاد رکھیے جو مشکل کے دنوں میں خود یاد آ جاتی ہے، یعنی سینے میں چلنے والی ہر سانس اسی کی عطا ہے۔ اور پھر صرف بے بس بندے کی طرح نہیں، شکر گزار بندے کی طرح کھڑے ہوں۔

ایک چھوٹا قدم: آسانی کے کسی لمحے میں، اگلی نماز سے پہلے، دل میں اللہ کی ایک نعمت کا نام لیجیے جو چھن جائے تو آپ گڑگڑا کر مانگیں، اور اسی کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز میں داخل ہو جائیے، تاکہ جو حضورِ قلب پہلے دکھ دیتا تھا، وہ اب شکر دے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔