دل کے سوال

میرے اور میرے شریکِ حیات کے درمیان اکثر ٹکراؤ ہوتا ہے، اور چھوٹی چھوٹی باتیں کئی کئی دن کی سرد خاموشی بن جاتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے اندر رحمت کو کیسے زندہ رکھا؟

Miyan biwi ki larai aur narmi

کئی کئی دن کی سرد خاموشی واقعی تکلیف دیتی ہے۔ مگر اتنی بات سمجھ لیجیے، کہ اختلاف ہر گھر میں ہوتا ہے، دو برتن ساتھ رہیں تو کھڑکتے ہی ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ بات کیوں بگڑی، اصل سوال یہ ہے کہ رحمت واپس کیسے آئے۔ آئیے، اسی راستے کی بات کر لیں۔

پہلی بات دل میں بٹھا لیجیے، کہ میاں بیوی کا رشتہ اللہ نے جیت ہار کے لیے نہیں، سکون اور رحمت کے لیے بنایا ہے:

”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔“

قرآن، سورۃ الروم ۳۰:۲۱ · مفہوم

غور کیجیے، اللہ نے فرمایا کہ محبت اور رحمت اسی نے آپ دونوں کے درمیان رکھ دی ہے۔ یعنی یہ خزانہ پہلے سے گھر ہی میں موجود ہے، کہیں باہر سے لانا نہیں پڑتا۔ لڑائی اور خاموشی اس پر جم جانے والی گرد ہے، اور کام صرف اس گرد کو جھاڑنے کا ہے۔ جھاڑنے کا سیدھا طریقہ ہے پہل کرنا۔ خاموشی دنوں تک اسی لیے کھنچتی ہے کہ دونوں انا کے خول میں بیٹھ کر انتظار کرتے ہیں کہ پہلے دوسرا بولے۔ جو پہل کر لیتا ہے وہ ہارتا نہیں، جیت اسی کی ہوتی ہے۔

اب دیکھیے کہ دو جہاں کے سردار اپنے گھر میں کیسے رہتے تھے۔ اس گھر کی گواہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں:

”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کی خدمت میں مصروف رہتے، اور جب نماز کا وقت آ جاتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔“

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، صحیح بخاری (۶۷۶) · مفہوم

انہی سے یہ بھی مروی ہے:

”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتے خود مرمت کر لیتے تھے۔“

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کے بارے میں، الادب المفرد (۵۴۰) · مفہوم

ذرا یہ منظر سامنے رکھیے۔ سارے عالم کے سردار، مگر گھر آ کر نہ حکم چلاتے، نہ رعب جماتے، بلکہ اپنے ہاتھ سے کام کرتے، گھر والوں کا بوجھ بانٹتے، اور پھر اسی گھر سے اٹھ کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ ہمارے ہاں کہیں یہ خیال بیٹھ گیا ہے کہ گھر میں نرمی برتنا بڑائی کے خلاف ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ آدمی جتنا بڑا ہوتا ہے، اپنے گھر میں اتنا ہی نرم اور مددگار ہوتا ہے۔ کام میں ہاتھ بٹانا، ایک نرم جملہ، ایک مسکراہٹ، رحمت کا آنگن انہی چھوٹی چھوٹی باتوں سے آباد رہتا ہے۔

اور کسوٹی خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرما دی:

”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں تم میں سے اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔“

نبی کریم ﷺ، جامع ترمذی (۳۸۹۵) · مفہوم

اچھائی کا پیمانہ باہر کی محفلوں میں نہیں، گھر کی چار دیواری میں رکھا گیا ہے۔ اکثر ہوتا یہی ہے کہ آدمی باہر لوگوں کے سامنے خوش اخلاق رہتا ہے اور اپنی نرمی گھر کی دہلیز پر اتار کر اندر آتا ہے۔ جس دن آپ نے یہ طے کر لیا کہ اپنے شریکِ حیات کے لیے سب سے بہتر بننا ہے، جیتنے کے لیے نہیں بلکہ سنت کی پیروی میں، اسی دن سے وہ سرد خاموشیاں پگھلنے لگیں گی۔ ایک فریق جھگڑا جیتنے کے بجائے رحمت جیتنے پر لگ جائے تو گھر خود سنور جاتا ہے۔

ایک چھوٹا قدم: اگلی بار جب کوئی چھوٹی سی بات خاموشی میں بدلنے لگے تو انا ایک طرف رکھ کر پہل آپ کیجیے۔ اپنے شریکِ حیات کا ایک چھوٹا سا کام اپنے ہاتھ سے کر دیجیے، ایک نرم جملہ کہہ دیجیے، یا بس محبت سے مسکرا دیجیے، اور نیت رکھیے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔