میں اپنی نیت شروع میں کیسے صاف رکھوں، جب عمل کے بیچ میں دکھاوے کا خیال بن بلائے آ گھستا ہے؟
Amal ke beech riya ka khayal
یہ کیفیت تقریباً ہر اس شخص پر گزرتی ہے جو اپنا عمل خالص رکھنا چاہتا ہے۔ نیت صاف باندھ کر کام شروع کیا، اور بیچ میں کہیں یہ خیال آ گیا کہ کوئی دیکھ لے، کوئی تعریف کر دے۔ بات دو حصوں میں سمجھ لیجیے۔ ایک یہ کہ شروع میں نیت کیسے صاف رکھی جائے، اور دوسرا یہ کہ بیچ میں آ ٹپکنے والے اس خیال کا کیا کیا جائے۔
شروع کا معاملہ آسان ہے۔ کام سے پہلے ایک لمحہ ٹھہر کر دل میں اتنا کہہ لینا کافی ہے کہ یہ کام صرف اپنے رب کی رضا کے لیے ہے۔ اسی ایک بات پر پورے دین کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
”اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۱) · مفہوم
یعنی اللہ آپ سے اسی نیت کے مطابق معاملہ فرمائے گا جو آپ نے شروع میں باندھی تھی۔ ابتدا میں دل کا رخ اللہ کی طرف کر لینا، اتنا ہی آپ کے اختیار میں ہے، اور اتنا ہو جائے تو کام بن گیا۔
اب دوسری بات۔ سب سے پہلے یہ بوجھ دل سے اتار دیجیے کہ اس خیال کا آ جانا ہی میرا گناہ ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ نفس اور شیطان کی طرف سے آنے والا وسوسہ ہے، اور وسوسے پر پکڑ نہیں ہوتی۔
”بےشک اللہ نے میری امت سے ان کے دلوں کے وسوسے معاف فرما دیے ہیں، جب تک وہ اس پر عمل نہ کریں یا اسے زبان پر نہ لائیں۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۵۲۶۹ / مسلم ۱۲۷a) · مفہوم
سو دکھاوے کا خیال دل میں آنا ایک بات ہے، اور اس خیال کو قبول کر کے عمل کا رخ لوگوں کی طرف موڑ دینا دوسری بات۔ پہلی معاف ہے، بچنا صرف دوسری سے ہے۔ اور بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب خیال آئے تو نہ اس سے الجھیے، نہ پریشان ہو کر عمل ہی چھوڑ بیٹھیے، کیونکہ نفس یہی چاہتا ہے کہ نیکی رک جائے۔ خیال سے لڑنے میں دھیان اور زیادہ اسی کی طرف جم جاتا ہے۔ بس نرمی سے دل کا رخ دوبارہ اللہ کی طرف کر لیجیے اور اپنا کام جاری رکھیے۔ راستہ چلتے مسافر کے کان میں کوئی آواز پڑتی ہے تو وہ رک نہیں جاتا، اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ یہی بار بار دل کو موڑ لینا، دراصل اخلاص کی اصل مشق ہے۔
ایک چھوٹا قدم: ایک چھوٹا سا جملہ یاد رکھیے، یا اللہ، یہ صرف تیرے لیے ہے۔ جب بھی کام کے دوران دکھاوے کا خیال آئے، اسی جملے کو دل میں دہرا لیجیے اور اس سے الجھے بغیر سکون سے اپنا کام پورا کر لیجیے۔
