When my anger rises I lose all control and say things I deeply regret afterwards. Is there really a way to hold the anger back in that boiling moment?جب میرا غصہ چڑھتا ہے تو میرا سارا اختیار جاتا رہتا ہے اور میں ایسی باتیں کہہ دیتا ہوں جن پر بعد میں سخت شرمندہ ہوتا ہوں۔ کیا واقعی اس ابلتے ہوئے لمحے میں غصے کو تھامنے کی کوئی راہ ہے؟
Yes. There is a way, though it is not quite the way people expect. It is not about becoming a man who never feels the heat rise. It is about what you do in the few moments while that heat is at its highest.
A man once came to the Prophet, peace be upon him, and asked for a word to live by. He was given one instruction, repeated until it would stay with him.
“Do not become angry.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari (6116) (also Jami’ at-Tirmidhi and Musnad Ahmad) · meaning
That is the aim. And the Prophet, peace be upon him, also showed where the remedy lies inside the boiling instant itself. He watched the heat rise in a man in front of him, and named the single word that would carry it away.
Sulayman ibn Surad (may Allah be pleased with him) said: I was sitting with the Prophet (peace and blessings be upon him) when two men began to abuse one another. The face of one of them turned red and the veins of his neck swelled. The Prophet (peace and blessings be upon him) said, “I know a word which, if he were to say it, what he is feeling would leave him. If he said, ‘I seek refuge with Allah from Satan,’ what he is feeling would leave him.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari (3282) and Sahih Muslim (2610a) · meaning
Notice what this counsel rests on. The first rush of anger comes like a wave, fiercest as it rises and weaker once we stop feeding it. That short word of refuge is what holds us still while the first wave passes over us and goes. In one breath the heart turns away from the fire and toward the One who can cool it.
And do not think that holding back makes you the lesser man. In the sight of Allah it is the other way round.
“The strong man is not the one who overpowers others, but the one who controls himself at the time of anger.”
The Prophet (peace be upon him), Sahih al-Bukhari (6114) · meaning
So you are not being asked to stop feeling. You are being asked, in that one heated instant, to sit, to breathe, to let the first wave carry the storm out to sea, and to speak only once the water is calm again.
One small step: The next time you feel the heat begin to climb, quietly change your posture at once, sit down if standing, and stay silent while you breathe slowly through ten counts before you say a single word.
راستہ ہے، مگر وہ کچھ اور ہے۔ بات یہ نہیں کہ آدمی ایسا ہو جائے کہ اُسے غصہ آنا ہی بند ہو جائے۔ بات اُن چند لمحوں کی ہے جن میں غصہ اپنے زور پر ہوتا ہے، کہ اُن لمحوں میں آپ کرتے کیا ہیں۔
ایک صحابی نے آپ ﷺ سے کوئی جامع نصیحت مانگی تو آپ ﷺ نے ایک ہی بات بار بار دہرائی، تاکہ وہ دل میں بیٹھ جائے۔
”غصہ نہ کیا کرو۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۶۱۱۶) (نیز جامع ترمذی اور مسند احمد) · مفہوم
اصل ہدف یہی ہے۔ اور آپ ﷺ نے اُس ابلتے لمحے کا علاج بھی بتا دیا۔ ایک دن آپ ﷺ کے سامنے ہی ایک شخص کے چہرے پر غصے کی سرخی چڑھی تو آپ ﷺ نے وہ کلمہ بتایا جو اِس کیفیت کو دور کر دیتا ہے۔
سلیمان بن صُرَد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ دو آدمی آپس میں سخت کلامی کرنے لگے۔ اُن میں سے ایک کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اُس کی گردن کی رگیں پھول گئیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص وہ کہہ لے تو جو کیفیت اِس پر طاری ہے، وہ اِس سے دور ہو جائے۔ اگر یہ کہے، میں شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، تو یہ کیفیت اِس سے جاتی رہے۔
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۳۲۸۲) و صحیح مسلم (۲۶۱۰a) · مفہوم
دیکھیے، یہ نصیحت کس بات پر قائم ہے۔ غصے کی پہلی لہر سب سے تیز ہوتی ہے، اور جونہی ہم اُسے ہوا دینا چھوڑ دیتے ہیں، وہ خود ہی ہلکی پڑنے لگتی ہے۔ اللہ کی پناہ کا یہ مختصر کلمہ اُسی وقت ہمیں تھام لیتا ہے، یہاں تک کہ پہلی لہر اوپر سے گزر جاتی ہے۔ ایک سانس میں دل کا رخ آگ سے ہٹ کر اُس ذات کی طرف ہو جاتا ہے جو اِسے ٹھنڈا کرنے پر قادر ہے۔
اور یہ خیال دل سے نکال دیجیے کہ رک جانے میں کوئی کمزوری ہے۔ اللہ کے ہاں معاملہ اِس کے برعکس ہے۔
”پہلوان وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۶۱۱۴) · مفہوم
تو آپ سے یہ نہیں کہا جا رہا کہ محسوس کرنا چھوڑ دیں۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ اُس ایک گھڑی میں بیٹھ جائیں، سانس لیں، پہلی لہر کو گزر جانے دیں، اور زبان اُس وقت کھولیں جب پانی ٹھہر چکا ہو۔ اختیار جاتا نہیں، بس چند لمحوں کے لیے چھپ جاتا ہے، اور بیٹھنے اور خاموش رہنے سے لوٹ آتا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: اگلی بار جب غصہ چڑھنے لگے، فوراً اپنی جسمانی حالت بدلیے، کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیے، اور دل میں تین بار آہستہ کہیے، اَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم، پھر ہی زبان کھولیے۔
