ایک بڑی پھسلن اور مجھے لگتا ہے کہ میری برسوں کی نماز، روزے اور نیکیاں سب مٹ کر بےکار ہو گئیں۔ کیا واقعی ایک گناہ سب کچھ مٹا دینے کے لیے کافی ہے؟
Ek gunah se saari nekiyan barbaad
نہیں، ایک گناہ برسوں کی عبادت کو مٹا نہیں دیتا۔ لغزش کے بعد یہ خیال آنا کہ اب سب کچھ اکارت گیا، یہ شیطان کا پرانا حربہ ہے۔ پہلے گراتا ہے، پھر کان میں کہتا ہے کہ اب اُٹھنے سے کیا حاصل۔ حالانکہ اللہ کا کلام اِس خیال کی صاف تردید کرتا ہے۔
آپ کی نمازیں، آپ کے روزے، وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں، سب اللہ کے ہاں محفوظ ہیں، اور اُن میں یہ زور رکھا گیا ہے کہ برائیوں کو دھو ڈالتی ہیں۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
”بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔“
قرآن، سورۃ ہود ۱۱:۱۱۴ · مفہوم
غور فرمائیے، یہ نہیں فرمایا گیا کہ برائیاں نیکیوں کو مٹا دیتی ہیں، بلکہ اِس کے برعکس فرمایا گیا۔ روشنی کا کام اندھیرا مٹانا ہے، اندھیرے کا کام روشنی بجھانا نہیں۔ آپ کی نیکیاں اِتنی کمزور نہیں کہ ایک ٹھوکر سے بہہ جائیں، وہ تو آگے بڑھ کر خطا کو مٹانے والی ہیں۔
اور اِس کا علاج نبی کریم ﷺ نے بہت آسان بتایا۔ کوئی لمبی چوڑی شرط نہیں رکھی، بس ایک بات کہی جو ہر شخص نبھا سکتا ہے:
”برائی کے بعد نیکی کر لیا کرو، وہ اُسے مٹا دے گی۔“
نبی کریم ﷺ، سنن ترمذی (۱۹۸۷) · مفہوم
سوچیے، سفید کاغذ پر سیاہی کا ایک قطرہ گر جائے تو ہم پورا کاغذ پھاڑ کر نہیں پھینک دیتے۔ اُس پر کچھ اور لکھ لیتے ہیں، کچھ سنوار لیتے ہیں، اور کاغذ کام آ جاتا ہے۔ آپ کی زندگی کا صفحہ بھی ایک داغ سے بےکار نہیں ہوا۔ ایک گناہ میں سب کچھ مٹانے کا زور نہیں، ہاں ایک نیکی میں گناہ مٹانے کا زور ضرور ہے۔ اب طے آپ کو کرنا ہے کہ زیادہ طاقتور کس کو مانتے ہیں، اپنی خطا کو یا اپنے رب کی رحمت کو۔
ایک چھوٹا قدم: لغزش کے فوراً بعد ایک چھوٹی سی نیکی کر ڈالیے، دو رکعت نفل پڑھ لیں یا سچے دل سے ایک بار استغفار کہہ لیں، تاکہ آپ کا آخری قدم گناہ کی طرف نہیں، نیکی کی طرف پڑے۔
