میں سنتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت کہا گیا۔ وہ رحمت روزمرہ زندگی میں عملاً کیسی دکھائی دیتی تھی، تاکہ میں اس کا کچھ حصہ اپنی زندگی میں لا سکوں؟
Nabi kareem ki rehmat rozmarra zindagi
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد ہی سارے جہانوں کے لیے رحمت بتایا ہے، کسی ایک قبیلے یا کسی ایک زمانے کے لیے نہیں۔
”اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔“
قرآن، سورۃ الانبیاء ۲۱:۱۰۷ · مفہوم
یہ رحمت کوئی کتابی بات نہ تھی، آپ ﷺ نے اسے جیا ہے۔ یہاں تک کہ جب آپ کو ستایا گیا، تب بھی آپ کی زبان پر کڑواہٹ نہ آئی۔ ایک موقع پر لوگوں نے، تکلیفوں سے تنگ آ کر، ستانے والوں کے حق میں بددعا کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے فرمایا۔
”مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، بلکہ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۹۹) · مفہوم
گھر کی چار دیواری میں، معمول کے دنوں میں، یہی رحمت بہت چھوٹی چھوٹی صورتوں میں سامنے آتی تھی۔ آپ ﷺ ننھے بچوں کو قریب کر کے پیار کرتے۔ ایک بار وہاں موجود کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم تو اپنے بچوں کو نہیں چومتے۔ آپ ﷺ نے اُن کے عمل پر گرفت نہیں کی، بلکہ اُس دل کا ذکر فرمایا جس سے رحمت اٹھا لی گئی ہو۔
”میں تیرے لیے کیا کر سکتا ہوں، اگر اللہ نے تیرے دل سے رحمت ہی نکال لی ہو۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۵۹۹۸) · مفہوم
یہ بات جھنجھوڑتی ہے، لیکن اِسی میں امید کا دروازہ بھی کھلا ہے۔ رحمت اللہ کی رکھی ہوئی چیز ہے، اور جو رکھتا ہے، عطا بھی وہی کرتا ہے۔ سو ہم میں سے ہر کوئی اپنے رب سے نرم دلی مانگ سکتا ہے، اور مانگنے والا اُس کے دَر سے خالی نہیں لوٹتا۔
ایک بات پر غور کیجیے۔ آپ ﷺ کی رحمت ہمیشہ کسی عمل کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ سیرت پڑھنے والے اِسے چھوٹی چھوٹی باتوں میں دیکھتے ہیں۔ بچے کے رونے کی آواز آئی تو نماز مختصر فرما دی، تاکہ ماں کو تکلیف نہ ہو۔ قیدیوں کی رسیاں کھلوا دیں۔ اور جن لوگوں نے کبھی آپ کے خلاف تلواریں اٹھائی تھیں، اُنہی کو معاف فرما دیا۔ رحمت آپ کی زندگی میں محض ایک جذبہ نہ تھی، وہ ایک کام تھا جو ہر آنے والے لمحے میں کیا گیا۔
اِس لیے سارے جہانوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر رکھنے کی ضرورت نہیں۔ اپنی چھوٹی سی دنیا میں، ایک ایک نرم سلوک کے ساتھ، یہ رحمت اتارتے جائیے۔ راستہ یہی ہے، خواہ ہمارے قدم کتنے ہی چھوٹے ہوں۔
ایک چھوٹا قدم: آج گھر میں کسی ایک فرد کے ساتھ محبت کا ایک عملی اظہار کیجیے، کسی بچے کی پیشانی چوم لیجیے یا والدین کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیجیے، اور اِتنی سی رحمت آج آپ کے حصے میں آ جائے، یہی کافی ہے۔
