دل کے سوال

میری بیوی بچوں اور گھر سے تھکی رہتی ہے اور اکثر چڑچڑی ہو جاتی ہے۔ اس کے موڈ کے ساتھ مجھے واقعی کتنا صبر کرنا چاہیے؟

Biwi ki thakan par sabar

بھائی، سب سے پہلے ذرا اُس کے دن کا حساب لگا لیجیے۔ بچوں کی ضرورتیں جو ختم نہیں ہوتیں، گھر کے کام جو کبھی پورے نہیں ہوتے، اور دینا صبح سویرے شروع ہو کر رات کو بھی پوری طرح نہیں تھمتا۔ جہاں اِتنا خرچ ہو رہا ہو، وہاں لہجے کی تلخی مزاج کا بگاڑ نہیں ہوتی، تھکن کی آواز ہوتی ہے۔ سخت بات کے پیچھے اکثر وہی دل ہوتا ہے جو آپ سے محبت کرتا ہے، مگر تھک چکا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ناراضی کے لمحے میں تھامنے کے لیے ایک بات ہمیں دی ہے:

”کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اُس کی ایک عادت ناپسند ہو تو دوسری عادت سے وہ خوش ہو جائے گا۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۱۴۶۸b) · مفہوم

اِس میں یہ نہیں کہا گیا کہ مشکل لمحے سے آنکھیں چرا لو۔ اِس میں اُسی لمحے کے اندر نظر پھیرنے کی تربیت ہے۔ ایک بات پر دل کھٹا ہو تو دس باتیں یاد آ جائیں: بچوں پر اُس کی شفقت، اُس کی وفا، اور وہ سو خاموش کام جن سے یہ گھر کھڑا ہے۔

اب آپ کا اصل سوال، کہ صبر کی حد کیا ہے۔ اِس موقع پر ایک حدیث بکثرت پیش کی جاتی ہے، مناسب ہے کہ اُسے بالکل اُسی طرح سنا جائے جیسے ارشاد ہوئی۔

”عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور اگر تم اُسے سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ بیٹھو گے، اور اگر تم اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۳۳۳۱) · مفہوم

دیکھیے، یہ حدیث مرد سے مانگ کیا رہی ہے۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ آپ کی نرمی اُسے بدل ڈالے گی، بات اِس کے برعکس ہے: سیدھا کرنے کی کوشش ہی توڑ دیتی ہے، اور حال پر چھوڑ دینا رشتہ سلامت رکھتا ہے۔ یہ درگزر کا سبق ہے، اصلاح کے دباؤ کا نہیں۔ اور ایک بات صاف رہنی چاہیے، کیونکہ یہ ضروری ہے: دن بھر کی تھکن کے بعد جو تلخی آتی ہے، اِس حدیث کا موضوع وہ نہیں۔ وہ کوئی پیدائشی ٹیڑھ نہیں جسے صرف سہنا ہے، وہ ایک تھکاوٹ ہے جسے ہلکا کرنا ہے۔ ہاں، جو انداز یہاں سکھایا گیا ہے، یعنی سنبھالنا، سیدھا کرنا نہیں، تھکے ہوئے دل کو اپنے سب سے قریبی آدمی سے یہی انداز درکار ہوتا ہے۔

یہی انداز آپ ﷺ نے اپنے ہی گھر میں، ایسے لمحے میں جب بات بگڑ سکتی تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نام لے کر سمجھایا۔

”اے عائشہ! اللہ نرمی فرمانے والا ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے، اور وہ نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو سختی پر عطا نہیں فرماتا، اور نہ ہی کسی اور چیز پر عطا فرماتا ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۹۳) · مفہوم

پیمانہ یہی ہے، اور یہ کسی مجلس میں نہیں، گھر کے اندر بیان ہوا۔ نرمی آسان گھڑیوں کے لیے مخصوص نہیں، یہ وہ روش ہے جو اللہ کو ہر معاملے میں پسند ہے، اور یہ وہ کچھ دلا دیتی ہے جو کڑا لہجہ کبھی نہیں دلا سکتا۔ اِس قسم کا صبر اٹھایا جانے والا بوجھ نہیں، دیا جانے والا حصہ ہے۔

سو جہاں تک بس چلے، اُس کا بوجھ بانٹیے، اور تھکن کے لمحے کا جواب ویسی ہی تلخی سے نہ دیجیے، ایک نرم لفظ سے دیجیے۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ چڑچڑاہٹ خود بخود کم ہونے لگی ہے، کیونکہ اُس کی جڑ نہ آپ تھے نہ اُس کی طبیعت، جڑ وہ بوجھ تھا۔

ایک چھوٹا قدم: آج بغیر کہے اور بغیر جتائے اُس کے ہاتھ سے ایک کام لے لیں، بچوں کو سنبھال لیں یا دسترخوان سمیٹ دیں، اور جو وقت بچے، وہ اُس کے آرام کا ہو۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔