دل کے سوال

میرا سارا خاندان کسی انسان کی قدر اُس کی تنخواہ اور کامیابی سے ناپتا ہے۔ میں اچھی زندگی کی ایک مختلف تعریف کیسے تھامے رکھوں؟

Khandan tankhwah se insan ki qadar

آپ کے گھر والوں نے بیٹھ کر یہ طے نہیں کیا تھا کہ آدمی کو تنخواہ کے پیمانے سے ناپا جائے۔ یہ پیمانہ پورے زمانے کا ہے، اور جیسے زبان ورثے میں ملتی ہے، ویسے ہی یہ سوچ بھی ورثے میں ملی ہے۔ اس بات کو سمجھ لینا کسی کی ناقدری نہیں۔ آپ دل میں دوسرا ترازو بھی رکھ سکتے ہیں اور اپنے سب عزیزوں کی قدر بھی، دونوں ساتھ چلتے ہیں۔

اصل ترازو وہی ہے جو رب کریم نے بیان فرمایا، اور وہ بازار کے ساتھ اوپر نیچے نہیں ہوتا۔

”اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بےشک تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک اللہ جاننے والا، باخبر ہے۔“

قرآن، سورۃ الحجرات ۴۹:۱۳ · مفہوم

یعنی رب کے ہاں درجہ روپے سے نہیں بنتا، عہدے سے نہیں بنتا، تقویٰ سے بنتا ہے، یعنی اس سے کہ دل اللہ کے کتنا قریب رہتا ہے۔ یہی بات آقا ﷺ نے ان لفظوں میں فرمائی، جو آدمی کو دنیا کے ہر حساب کتاب سے آزاد کر دیتے ہیں۔

”بےشک اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح مسلم (۲۵۶۴c) · مفہوم

غور کیجیے، جو چیز تولی جا رہی ہے، یعنی دل اور عمل، وہی ایک چیز ہے جو کسی مندی میں ہاتھ سے نہیں جاتی۔ ہاں، اسے دل میں قائم رکھنا آسان نہیں۔ ماحول کا دباؤ واقعی بھاری ہوتا ہے اور تنہا آدمی جلد تھک جاتا ہے۔ قرآن نے اس کا علاج صاف بتا دیا۔

”اور اپنے آپ کو ان لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اسی کی رضا چاہتے ہیں۔“

قرآن، سورۃ الکہف ۱۸:۲۸ · مفہوم

تو کسی سے بحث کی ضرورت نہیں، نہ اپنی تعریفِ زندگی کا اعلان کرنے کی۔ دو چار ایسے لوگ، چند ایسی کتابیں، کوئی ایسی مجلس اپنے قریب رکھیے جو یاد دلاتی رہے کہ قیمت اصل میں کہاں لکھی جاتی ہے۔ اور گھر والوں کے ساتھ پہلے سے زیادہ محبت سے رہیے، کم نہیں۔ وقت کے ساتھ انہیں خود اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کے پاس ایک ٹھہراؤ ہے جو تنخواہ سے نہیں خریدا جاتا، اور یہ بات ہر بحث سے زیادہ اثر کرے گی۔

ایک چھوٹا قدم: اس ہفتے کسی ایک ایسے شخص سے دس منٹ بات کیجیے جس کی صحبت دل کو اللہ کی طرف کھینچتی ہو، اور پھر یہی بیٹھک ہفتے کا معمول بنا لیجیے۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔