میری نماز ظاہری طور پر درست ہے، ہر رکن اور ہر مسئلہ اپنی جگہ، پھر بھی وہ بے جان سی لگتی ہے۔ کیا میں نے نماز کے ظاہری قالب پر تو عبور پا لیا مگر اس کی پوری روح کہیں کھو دی؟
Namaz durust magar be jaan
نماز کے بے جان لگنے کا احساس ہی اس بات کی دلیل ہے کہ دل زندہ ہے۔ مردہ دل کو تو کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا۔ ظاہری ارکان اور مسائل آپ نے سیکھ لیے ہیں اور ان کی پابندی بھی کر رہے ہیں، اور دونوں کاموں میں مشکل تر یہی ہے۔ سمجھ لیجیے کہ ظاہری صورت پیالہ ہے، صاف اور تیار، اور حاضریِ دل وہ چیز ہے جو اس میں بھری جاتی ہے۔ پیالہ آپ کے ہاتھ میں ہے، بس اسے بھرنا باقی ہے۔
قرآن نے یہ بات چھپائی نہیں کہ نماز کو بھرتی کیا چیز ہے۔ اور اسے کسی نئی شرط یا نئے مسئلے کے طور پر نہیں، بلکہ دل کی نرمی اور جھکاؤ کے طور پر بیان کیا گیا ہے:
”یقیناً کامیاب ہو گئے وہ ایمان والے، جو اپنی نماز میں عاجزی اور خشوع کرنے والے ہیں۔“
قرآن، سورۃ المؤمنون ۲۳:۱-۲ · مفہوم
جہاں قرآن نے نماز کے بارے میں سخت بات فرمائی ہے، وہاں ذرا غور کیجیے کہ روئے سخن کس کی طرف ہے، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں نرم دل لوگ بلاوجہ خود کو زخمی کر بیٹھتے ہیں:
”پس خرابی (ویل) ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں، جو دکھاوا کرتے ہیں۔“
قرآن، سورۃ الماعون ۱۰۷:۴-۶ · مفہوم
الفاظ یہ ہیں، ”اپنی نماز سے غافل“۔ یہ نہیں فرمایا گیا کہ ”اپنی نماز میں غافل“۔ مفسرین نے اسی ایک لفظ کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی ہے۔ ان کے نزدیک یہاں ذکر اُس شخص کا ہے جو نماز کو ہاتھ سے جانے دے، یا وقت سے ٹال دے، یا لوگوں کے سامنے پڑھے اور تنہائی میں چھوڑ بیٹھے۔ اور علما نے صاف لکھا ہے کہ نماز کے دوران جو خیال دل میں آ کر گزر جائے، اس پر کوئی گناہ نہیں۔ سو یہ بوجھ دل سے اتار دیجیے۔ یہ آیت ہمارے اخلاص کی نگہبان ہے، اور نماز وہی جگہ ہے جہاں اخلاص سب سے زیادہ سنبھال کر رکھنا ہوتا ہے۔ جو دل وقت پر اپنی جگہ کھڑا ہے، اور غم صرف اس بات کا ہے کہ قربت اور بڑھے، یہ آیت اس کے خلاف اتری ہی نہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ اللہ تک نماز کا ڈھانچہ نہیں پہنچتا، دل کی حاضری پہنچتی ہے:
”اللہ کو نہ ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے، نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تو تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔“
قرآن، سورۃ الحج ۲۲:۳۷ · مفہوم
یہ آیت قربانی کے بارے میں ہے، مگر اس سے بات ساری عبادتوں کی کھل جاتی ہے۔ قربانی میں گوشت اور خون سامنے ہیں، مگر مطلوب دل کا جھکاؤ ہے۔ اسی طرح نماز میں رکوع و سجود سامنے ہیں، مگر اصل وہ حضورِ قلب ہے جو ان کے پیچھے ہے۔ اور اس تک پہنچنے کا سیدھا راستہ نبی کریم ﷺ نے ایک ہی جملے میں رکھ دیا:
”تو اللہ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو (یہ یقین رکھ کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۵۰) · مفہوم
اگلی بار تکبیر کہنے سے پہلے یہی ایک بات دل میں دہرا لیجیے کہ میرا رب اِس وقت مجھے دیکھ رہا ہے۔ بوجھ سمجھ کر نہیں، لوٹ کر آنے کے احساس کے ساتھ۔ پھر دیکھیں گے کہ وہی ارکان، جو کل تک خالی سانچے لگتے تھے، آہستہ آہستہ بھرنے لگیں گے۔
ایک چھوٹا قدم: آج ایک نماز چن لیجیے، اور اس کی صرف پہلی رکعت میں، تکبیر کہتے ہی دل میں یہ بات جما لیجیے کہ ”وہ مجھے دیکھ رہا ہے“۔ پوری نماز نہیں، بس ایک رکعت۔ آغاز یہیں سے ہو جائے گا۔
