میں رشتہ داری کے تعلق کو مضبوط کرنا چاہتا ہوں مگر میرے عزیز دور رہتے ہیں اور زندگی بہت مصروف ہے۔ آج کے بکھرے ہوئے خاندان میں صلہ رحمی نبھانے میں حقیقت میں کون سی چھوٹی باتیں شمار ہوتی ہیں؟
Door rehte rishtaydaron se silah rahmi
بات یہ ہے کہ آج زندگی واقعی بکھر گئی ہے۔ عزیز دور دراز شہروں اور ملکوں میں جا بسے ہیں، دن مصروفیت میں گزر جاتا ہے، اور کئی بار دل چاہتے ہوئے بھی رابطہ رہ جاتا ہے۔ لیکن دین نے صلہ رحمی کو نہ لمبے سفر سے باندھا ہے، نہ بڑے اہتمام سے۔ اِس کا مدار چھوٹے چھوٹے کاموں پر ہے، شرط صرف اتنی ہے کہ نبھاؤ باقی رہے۔
پہلے یہ دیکھ لیجیے کہ اِس عمل پر وعدہ کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”جو شخص یہ چاہے کہ اُس کے رزق میں کشادگی ہو اور اُس کی عمر دراز کی جائے تو وہ اپنے رشتہ داری کے تعلق کو جوڑے رکھے۔“
نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری و صحیح مسلم (بخاری ۲۰۶۷ / مسلم ۲۵۵۷a-b) · مفہوم
غور کیجیے، رزق کی کشادگی اور عمر کی درازی، دونوں اُس کام سے جڑی ہیں جسے ہم عام طور پر معمولی سمجھ کر ٹال دیتے ہیں۔ جو رزق کے پیچھے دوڑ رہا ہے اور جو گھر کی ذمہ داریوں میں تھکا ہوا ہے، دونوں کے لیے یہی دروازہ کھلا ہے۔ دنیا کی امیدیں اور اپنوں کا حق، دونوں ایک ہی سمت میں لے جاتے ہیں۔
اور اگر جی میں یہ خیال آتا ہے کہ اتنی دوری میں اِتنا سا رابطہ کیا کام دے گا، تو مطمئن رہیے۔ محبت سے بھیجا ہوا ایک سلام بھی رشتہ داری کی ڈور کو جوڑے رکھتا ہے۔ اپنوں کی طرف بڑھایا ہوا سلامتی کا ایک لفظ کبھی چھوٹا نہیں ہوتا۔
اب اِسی کو آج کی زندگی پر لگا کر دیکھیے۔ دفتر جاتے ہوئے خالہ کو ایک مختصر آواز کا پیغام، کسی کزن کو سالگرہ پر دو سطریں، چچا کو صرف آواز سننے کے لیے ایک منٹ کی کال، کسی کی خوشی یا غم کی خبر پر دو لفظ لکھ دینا، یہ سب صلہ رحمی ہی ہے اور اُسی وعدے میں شامل ہے۔ دلوں کو رابطے کی لمبائی نہیں جوڑتی، رابطے کا برقرار رہنا جوڑتا ہے۔
یہ بات ہم اپنی زندگی میں بھی دیکھتے ہیں۔ چھوٹا مگر باقاعدہ رابطہ دور رہ کر بھی دل کو قریب رکھتا ہے، اور لمبی خاموشی اپنوں کو بھی اجنبی کر دیتی ہے۔ اصل ڈور تسلسل کی ہے۔ اور اگر دوسری طرف سے رابطہ کم ہو تو دل چھوٹا نہ کیجیے، پہل کرنے والے کا درجہ اللہ کے ہاں بڑا ہے۔
ایک چھوٹا قدم: آج کسی ایک دور بستے عزیز کو صرف ایک پیغام بھیج دیجیے، “السلام علیکم، آپ یاد آئے، خیریت چاہتا ہوں”، اور پھر ہفتے میں ایک رشتہ دار، اِسے معمول بنا لیجیے۔
