دل کے سوال

میں اپنے بچوں سے محبت کرتا ہوں لیکن انہیں کم ہی بتاتا یا کھل کر پیار جتاتا ہوں۔ کیا محبت کا زبان سے اظہار ثقافتی اضافہ ہے، یا یہ سنت کا حصہ ہے؟

Bachon se pyar ka izhar sunnat

یہ معاملہ بہت سے گھروں کا ہے۔ محبت دل میں پوری موجود ہوتی ہے، مگر زبان تک آتے آتے رہ جاتی ہے۔ ہم جن گھروں میں پلے بڑھے، وہاں محبت کہہ کر نہیں، کما کر، پال کر اور حفاظت کر کے دکھائی جاتی تھی۔ یہ عادت ہے، عیب نہیں، اور عادت بدلی جا سکتی ہے۔

اب اصل بات کی طرف آئیے۔ محبت کا زبان سے اظہار نہ کوئی رواج ہے، نہ نئے زمانے کی نرمی۔ حضور ﷺ نے اس کا صاف حکم دیا ہے:

”جب کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔“

نبی کریم ﷺ، سنن ابی داؤد (۵۱۲۴) · مفہوم

جب ایک دینی بھائی سے بھی محبت کہہ کر ظاہر کرنے کا حکم ہے، تو اپنی اولاد، جن کی ساری دنیا آپ کا چہرہ اور آپ کی آواز ہے، ان کا حق اس سے کم نہیں، زیادہ ہے۔ اَن کہی محبت سے آپ کا دل گرم رہتا ہے، کہی ہوئی محبت سے ان کا دل گرم ہوتا ہے، اور پرورش ہم انہی کی کر رہے ہیں۔

حضور ﷺ نے صرف کہا ہی نہیں، کر کے بھی دکھایا۔ ایک بار آپ ﷺ اپنے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پیار کر رہے تھے کہ پاس بیٹھے ایک شخص نے کہا، میرے دس بچے ہیں، میں نے آج تک کسی کو نہیں چوما۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

”جو رحم نہیں کرتا، اُس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“

نبی کریم ﷺ، صحیح بخاری (۵۹۹۷) · مفہوم

ذرا یہ منظر سامنے رکھیے۔ جس ہستی سے بڑھ کر باوقار کوئی نہیں، اُس نے لوگوں کے سامنے ایک ننھے بچے کو چوما، بغیر جھجک، بغیر جلدی۔ شفقت کھل کر ظاہر کرنا اُن کی شان کے خلاف نہ تھا، تو ہماری شان کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے۔

اس کا اثر اُس ایک لمحے تک محدود بھی نہیں رہتا۔ جس بچے نے یہ بول سنے ہوں اور کھلے دل سے گلے لگنا نصیب ہوا ہو، اُس کے اندر اپنی قدر کا ایک یقین بیٹھ جاتا ہے، اور آگے چل کر وہ اپنے بچوں سے بھی یہ بات آسانی سے کہہ لیتا ہے۔ آج آپ جو کہیں گے، وہ اُن نسلوں تک پہنچے گا جنہیں آپ دیکھ بھی نہ سکیں گے۔

اس لیے کسی موقع کا یا ٹھیک لفظوں کا انتظار نہ کیجیے۔ سیدھے سادے لفظوں میں، اپنی زبان میں، اپنے لہجے میں کہہ دیجیے۔ جو محبت دل میں اتنی بھری ہوئی ہے، اُسے زبان تک آنے میں دیر ہی کتنی لگے گی۔

ایک چھوٹا قدم: آج اپنے کسی ایک بچے کی آنکھوں میں دیکھ کر، سر یا کندھے پر ہاتھ رکھ کر صرف اتنا کہہ دیجیے، ”مجھے تم سے محبت ہے۔“ ایک بار ہی کافی ہے۔ کل یہ کہنا آسان ہو گا۔

یہ بات کسی اپنے تک پہنچائیے
واٹس ایپ فیس بک ایکس ٹیلیگرام

ایک ضروری گزارش

یہ جوابات عام تذکیر، تسلی اور حوصلے کے لیے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیں، اور نہ آپ کے ذاتی مسئلے کا شرعی حکم۔ حلال و حرام، عبادات، نکاح و طلاق، وراثت اور مال کے مسائل ایسی تفصیلوں پر ٹھہرتے ہیں جنہیں مفتی صاحب ہی آپ کی پوری بات سن کر تول سکتے ہیں، اِس لیے ایسے معاملات اپنے قریبی دار الافتاء میں پیش کیجیے۔

یہاں کوئی بات طبی، نفسیاتی، قانونی یا مالی مشورہ نہیں۔ جہاں آپ کی صحت، حفاظت یا روزگار کا معاملہ ہو، وہاں متعلقہ ماہر سے بھی ضرور رابطہ کیجیے، اور اگر کوئی خطرے میں ہو تو فوراً مدد حاصل کیجیے۔

آیات و احادیث یہاں مفہوم کے ترجمے اور حوالے کے ساتھ دی گئی ہیں، تاکہ آپ خود بھی اصل مقام تک پہنچ سکیں۔ ترجمہ بذاتِ خود نص نہیں۔ ہر حوالہ نہایت احتیاط سے جانچا گیا ہے، مگر انسانی کوشش بہرحال انسانی ہے۔ کہیں کوئی سہو نظر آئے تو مطلع فرمائیے، ہم فوراً درست کر لیں گے۔

اللہ تعالیٰ جو درست ہے اُسے قبول فرمائے، اور جو خطا ہو اُسے معاف فرمائے۔